کراچی (نیوز ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں سینیٹر سرمد علی کی کنوینر شپ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز سید وقار مہدی اور جان محمد کے علاوہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد پولیس کے نمائندوں اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ صحافیوں کے خلاف کل 13 ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں، جن میں سے 11 ابتدائی تفتیش کے بعد منسوخ کر دی گئیں۔کمیٹی کو بتایا گیاکہ 14 کروڑ افراد سائبر ا سپیس میں فعال ہیں، جبکہ تقریباً 20 فیصد سوشل میڈیا اکاؤنٹس جعلی ہیں۔ سینیٹر سرمد علی نے موثر کارکردگی کے لیے NCCIA کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مزید برآں، عام عوام سے متعلق سائبر کرائمز کے سلسلے میں 689 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس نے بتایا کہ پنجاب میں آن لائن جرائم کے تقریباً 500 کیسز اس وقت زیرِ کار ہیں۔سینیٹر سید وقار مہدی کے ایک سوال کے جواب میں، کمیٹی کو بتایا گیا کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) پیکا 2025 میں حالیہ ترامیم کے تحت، اب کوئی بھی تھانہ سائبر کرائم کی ایف آئی آر درج کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ ایسی تمام شکایات اب تحقیقات کیلئے NCCIA کو بھیجی جاتی ہیں۔ تاہم، اگر آن لائن سرگرمی کسی جسمانی یا روایتی جرم کا سبب بنے، تو دو ایف آئی آرز درج کی جا سکتی ہیں؛ ایک سائبر پہلو کے لئے NCCIA کے پاس اور دوسری متعلقہ صوبائی پولیس کے پاس۔ پنجاب میں NCCIA کی طرز پر صوبائی ادارہ قائم کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ کام کے بوجھ کو بانٹنے کے لیے ایسا ادارہ بنانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔