• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی مجھے لاڈلا کہتا ہے، تو کہتا رہے، ڈاکٹر مقصود احمد

کراچی ( رپورٹ/ اختر علی اختر) سندھ پولیس کے سکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن اورسندھ سیف سٹیز اتھارٹی کے سربراہ ڈی آئی جی ڈاکٹر مقصود احمد کا کہنا ہے کہ کوئی مجھے لاڈلا کہتا ہے، تو کہتا رہے، اس میں کسی کو شک بھی نہیں ہونا چاہئے، ایس ایس یو میں بھرتی سوفیصد میرٹ پر ہوتی ہے،اس مقام تک پہنچنے میں میرے رب کا کرم ہے،والدین کی دعاؤں کی اور سخت محنت شامل ہیں۔اپنے کام میں بہتری لانے کے لئے دن بدن پُروف کررہا ہُوں۔ ایس ایس یو ایسا ادارہ ہے، جہاں عام سپائی سے لے کر افسران تک ایک جیسا سلوک برتا جاتا ہے۔ ہمارے یونیفارم بھی ایک ہی کپڑے سے تیار کئے جاتے ہیں۔ہم نے پڑوسی ملک کے مقابلے میں کمزور فلمیں بنائیں،ہمارا ڈراما ’’اندھیرا اُجالا‘‘ نے پولیس کے امیج کو بہتر بنانے میں اہم کردار کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لائف اسٹائل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کے طور پر پاکستان پولیس میں خدمات انجام دے رہا ہُوں۔ اس وقت سندھ پولیس کے سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن اور سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہا ہُوں۔ مجھے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU) بنانے کا منفرد اعزاز حاصل ہے، جو ایلیٹ انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی ادارہ ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر معمولی خدمات پر تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔ IBA کراچی سے گریجویٹ کرنے کے بعد لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس سے’’کرمنل جسٹس پالیسی‘‘ میں ماسٹرز کیا۔ نارتھمبریا یونی ورسٹی، برطانیہ سے’’پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت‘‘ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ڈاکٹر مقصود احمد نے بتایا کہ پاکستان میں پہلا ڈپارٹمنٹ پولیس کا یونٹ ہے، جو ISO Certified ہے۔

اہم خبریں سے مزید