کراچی (ٹی وی رپورٹ) صحافی و تجزیہ کار ادریس علی اور کامران یوسف نے کہا ہے کہ ایک دو دن میں ڈیل نہ آئی توحملے شروع ہوسکتے ہیں،ایران جلدی میں معاہدہ نہیں بتدریج پروگریس چاہتا ہے۔ ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا کہ دنیا بھر کی مارکیٹس میں بہت اتار چڑھائو ہے۔ وہ جیو نیوز کے ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار، واشنگٹن ڈی سی ادریس علی نے کہا کہ پینٹاگون میں پورا دن پراجیکٹ فریڈم سے متعلق بات ہوتی رہی اور کہا جارہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوششیں چل رہی ہیں اور پھر صدر ٹرمپ نے کہا کہ پراجیکٹ فریڈم ختم ہوگیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں صدر ٹرمپ یہی طریقہ کار اپنایا ہوا ہے کہ ایک طرف سفارتکاری چلتی رہے اور دوسری طرف ملٹری آپشن بھی کھلا رکھیں اور اگر ایک دو دن میں ان کے پاس ڈیل نہیں آتی تو میرے ذرائع کے مطابق حملے دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ اگر امریکہ و ایران حملے نہ کرنے پر متفق ہوجاتے ہین اور اسرائیل نہیں کرتا تو معاہدہ کرنا بہت مشکل ہے اور صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تقریباً روز ہی بات ہو رہی ہوتی ہے اور میں سمجھتا ہوں ایک ٹھوس معاہدے کے لئے سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا جو مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔