کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف جواب الجواب طلب۔ جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ صاحب مختیار کار نے کس حیثیت میں دفتر سیل کیا ہے بتایا جائے؟ کنٹریکٹر کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی، کے ایم سی فریق ہے تو خود سیل کرتی،مختیار کار نے کوئی وجہ نہیں بتائی بس جاکر ٹھپہ لگا دیا، 6 سال ہو گئے سڑک نہیں بنی، ڈیزائن بار بار کیوں بدل رہے ہیں؟ کیا اسٹیشنز کے بغیر بس چلے گی؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ مختیار کار نے اکیلے کام نہیں کیا ہے، کے ایم سی بھی انکے ساتھ تھی۔ نقصان تو حکومت کا ہورہا ہے۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس میں کہا کہ کنٹریکٹر کے دفتر کو سیل کرکے انکے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے کی لاگت 16 ارب سے بڑھ کر 31 ارب ہو گئی، 15 ارب ادا کر چکے، کنٹریکٹر کام نہیں کر رہا تھا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی دفتر خود بھی تو سیل کرسکتا تھا نا؟ مالک مکان کو پتہ نہیں ہے اور کوئی اور جاکر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔ اگر وہاں پر کنٹریکٹر کا قبضہ تھا، تو سول کیس ہوسکتا تھا دیگر فورمز موجود ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے سیلنگ آرڈر کو چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے صرف ڈی سیل کرنے کی استدعا کی ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس میں کہا کہ ہم بھی سیکھنا چاہتے ہیں کہ کس اختیار کے تحت مختیار کار نے دفتر سیل کیا ہے۔ کمشنر صاحب کو کل بلالیں ان سے پوچھتے ہیں شائد ان کو پتہ ہو۔ معاملہ کے ایم سی اور کنٹریکٹر کا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ کے ایم سی کمشنر کے پاس گیا تھا کمشنر نے مختیار کار کو کہا۔ کے ایم سی کو اس کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا ہے۔ درخواست قابل سماعت نہیں ہے عدالت کے دائر اختیار میں نہیں آتی ہے۔ پہلے انہیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ دفتر سیل ہوا ہے۔