ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام 34ویں بین الاقوامی عالمی یومِ صحت 2026 کا انعقاد ہوا، جس میں دنیا بھر سے محققین، طبی ماہرین اور نوجوان مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے دیا گیا پیغام ’’صحت کی حفاظت سائنس کے ساتھ ‘‘تھا، جس نے اس عالمی اجتماع کو ایک مشترکہ فکری سمت عطا کی۔ صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان، محترمہ سعدیہ راشد نے کیا۔
مہمانِ خصوصی، ممتاز سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمٰن، معزز مندوبین، محققین، شرکاء، مہمانانِ گرامی اور طلبہ کو خوش آمدید کہا، بعدازاں خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، میں اس موقع کو محض ایک تقریب نہیں بلکہ افکار کا سنگم، خیالات کا جشن اور ایک صحت مند مستقبل کا عہد قرار دیتی ہوں۔ عالمی ادارۂ صحت کے سالانہ موضوعات ہمیشہ ’’صحت سب کے لیے ‘‘ کے وژن کے گرد گھومتےہیں، جس کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب انسانیت متحد ہو کر سائنس پر اعتماد کرے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سائنس کو کسی پیچیدہ یا دور ازکار شے کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ دنیا بھر میں آج بھی لاکھوں افراد بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں اور قابلِ تدارک امراض بدستور معاشروں کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم ویکسین، صاف پانی اور آگاہی کے ذریعےہر سال کروڑوں جانیں بچا رہی ہے، جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ سائنس کے ساتھ کھڑا ہونا کیوں ضروری ہے۔
محترمہ فاطمہ زہرہ منیر احمد، منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او، ہمدرد لیبارٹریز نے کہا، تیزی سے بدلتی دنیا، غیر یقینی حالات اور پیچیدہ صحتی چیلنجز کے اس دور میں سائنس ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ اور ایک بہتر و صحت مند مستقبل کی تعمیر کو ممکن بناتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ یونانی طب محض روایتی گھریلو علاج تک محدود نہیں رہی بلکہ اب ایک تحقیق پر مبنی اور شواہد سے ثابت شدہ نظامِ طب کے طور پر ابھر رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے یونانی سمیت روایتی اور تکمیلی طب کے لیے معیارات اور رہنما اصول وضع کیے ہیں، جو مسلسل تحقیق اور شواہد کے ذریعے اس کی حفاظت، معیار اور افادیت کو یقینی بناتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اپنے 800 سے زائد اشتراکی مراکز کے ساتھ مل کر سائنسی علم کی تخلیق، صحت کے نظام کی مضبوطی اور دنیا بھر میں صحت کی مساوی سہولیات تک رسائی کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر صحت کے میدان میں پیش رفت کو غلط معلومات، آگاہی کی کمی اور بڑھتے ہوئے عدم اعتماد جیسے چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے نمائندہ برائے پاکستان، ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، طبی سائنس نے کروڑوں جانیں بچائی ہیں۔ جن میں ویکسین انسانی تاریخ کی عظیم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے، پاکستان میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ہر سال لاکھوں بچوں کو زندگی بچانے والی ویکسین فراہم کرتا ہے۔
پولیو ویکسینیشن پروگرام کے باعث دو کروڑ سے زائد افراد معذوری سے محفوظ رہ کر صحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہوئے ہیں، جبکہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان میں پولیو کے کیسز میں 99.8 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طبی سائنس نے روزمرہ زندگی کو بھی بدل کر رکھ دیاہے۔ بینائی کے مسائل کے شکار افراد اب عینک کے ذریعے بہتر زندگی گزار سکتے ہیں، تپِ دق (ٹی بی) جیسے امراض کا علاج ممکن ہو چکا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں جانیں بچائی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت، وزارتِ صحت کے ساتھ مل کر گزشتہ ایک دہائی میں لاکھوں ٹی بی مریضوں کے علاج میں معاونت فراہم کر چکا ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ جدید سائنس نے اینستھیزیا (بے ہوشی) کے ذریعے سرجری کو زیادہ محفوظ اور کم تکلیف دہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت ہر سال شدید غذائی قلت کا شکار ہزاروں بچوں کے لیے زندگی بچانے والے علاج کی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا، جدید ٹیکنالوجی نے دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود جدید علوم کی سہل دستیابی نے دنیا بھر کے لوگوں کو جدید علوم حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور انفرادی و قومی ترقی کی نئی راہیں ہموار کرنے کے نادر مواقع فراہم کئے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے اپنی زندگی کے چند اہم تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ چیلنجز کو قبول کرنا اور انہیں ترقی کا ذریعہ بنانا کیوں ضروری ہے، بجائے اس کے کہ ان سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے سائنس اور جدت کے میدان میں اپنے غیر معمولی سفر کے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے نوجوانوں کو تجسس، عزم اور اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے پُرعزم رہنے کی تلقین کی۔ ڈاکٹر عطا ء نے بچپن ہی سے اپنے فطری تجسس کا ذکر کیا، خاص طور پر فطرت، کائنات اور انسانی حیاتیات کو سمجھنے کی جستجو۔
ٍانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زندگی مسلسل چیلنجز کا نام ہے۔ طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کی کہ وہ آسان راستہ اختیار کرنے کے بجائے چیلنجز کو اپنائیں، کیوں کہ حقیقی ترقی اور جدت ہمیشہ محنت، استقامت اور جستجو کے نتیجے میں ہی جنم لیتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت سندھ کے نمائندہ ڈاکٹر مختیار حسین بھیو نے نوجوان شرکاء کے اعتماد اور جوش و جذبے کو سراہتے ہوئے صحت سے متعلق نوجوانوں کی زیرِ قیادت آگاہی مہمات کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ اوراس امر پر زور دیا، آج کی باہم مربوط دنیا میں انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اسی تناظر میں “ون ہیلتھ” کے تصور کی اہمیت پاکستان کے لیے ایک کلیدی ترجیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر بھیو نے سعدیہ راشد، کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، کہ وہ عالمی یومِ صحت کے تناظر میں مسلسل بامقصد اور مؤثر صحت آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد کر رہی ہیں۔