• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارا گھرجلانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، عنایت الرحمان

پشاور (لیڈی رپورٹر)پشاور کے نواحی علاقے ریکی ملاکنڈھیر میں 30اپریل اور یکم مئی کی شب نظر اتش ہونے والے گھر کے مکینوں عنایت الرحمن ولد فضل اکبر نے اپنی والدہ نگھت بی بی اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ30اپریل کو ان کے والد فضل اکبر اپنے بیٹوں محمد یوسف محمد عزیر اور محمد شیراز کے ہمراہ خاندانی جائیداد میں وراثت میں ملنے والے پلاٹ پر چونا ڈال رہے تھے کہ اس دوران فضل اکبر کے بھائی سلطان ولد فضل محمود اور ان کے بیٹے اختر جمال ولی محمد اور ڈاکٹر سید احمدمبينہ طور پراتشین اسلحہ سمیت ائے اور پہلے میرے باپ اور بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد شدید فائرنگ کی جس کی وجہ سے مبینہ طور پر ان کا اپنا ہی بیٹا ڈاکٹر سید احمد زخمی ہو کر گر گیا اس دوران ہم رپورٹ کرنے جب تھانہ ناصر باغ گئے تو معلوم ہوا کہ ہمارے ہی خلاف قتل کی ایف ائی ار کاٹی گئی ہے انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضے اس وقت پورے نہیں کیے گئے اور نہ ہماری سنی گئی لیکن اور 30اپریل اور یکم مئی کی درمیانی شب مخالفین نے ہمارے گھر پر دھاوا بولا اور چادراور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے خواتین کو اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ کی اور ہمیں زبردستی اسلحے کی نوک پر گھر سے باہر نکالا گیا اور ہمارے سامنے ہر گھر کے کمرے میں پٹرول چھڑک کر اگ لگائی گئی گھر اور اس میں موجود تقریبا 80لاکھ روپے 12تولے سونا گھر کے قیمتی اشیاء مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔
پشاور سے مزید