شکارپور (نامہ نگار) شکارپور کے قریب میان صاحب کے علاقے میں باراتیوں سے بھری بس دلخراش حادثے کا شکار، بس میں موجود کمسن لڑکی سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ دولہا اور دلہن سمیت 26 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے اوستہ محمد سے واپس میرپور بُرڑو جانے والی باراتیوں سے بھری بس کا ٹائر پھٹ گیا جوکہ تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے نکل کر کھائی میں جا گری۔ حادثے کے بعد پولیس کیجانب سے مقامی لوگوں اور ہیوی مشینری کی مدد سے بس کو کھائی سے نکال کر ہلاک ہونے والوں سمیت زخمیوں کو ریسکیو کرتے ہوئے شکارپور اسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں نبی بخش چنہ، مرید چنہ، حضور بخش چنہ اور ایک کمسن لڑکی سائرہ چنہ سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جبکہ دولہا اور دلہن سمیت 26 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر شکارپور شکیل احمد ابڑو نے چیئرمین میونسپل کمیٹی فیاض محمود شیخ کے ہمراہ سول اسپتال شکارپور پہنچ کر حادثے کی تفصیلات لیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ پولیس کے مطابق میرپور بُرڑو سے تعلق رکھنے والی چنہ برادری کی بارات اوستہ محمد سے واپس آرہی تھی کہ میاں صاحب کے قریب یہ خوفناک حادثہ پیش آیا۔عینی شاہدین کے مطابق بس کی حالت انتہائی خراب تھی اور اس کی فٹنس بھی مشکوک بتائی جارہی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حادثے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ ٹرانسپورٹ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے افسران کی مبینہ غفلت کو حادثے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر فٹ اور خستہ حال پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں سڑکوں پر کھلے عام چل رہی ہیں جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ آئے روز ہونے والے حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہیں کی جارہی۔شہریوں نے حکومت سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے متعلقہ افسران کی غفلت اور ڈیوٹی میں کوتاہی کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر فٹ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کا احتساب کیا جائے۔