کراچی(سید محمد عسکری)ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے غیر مجاز کیمپسز سے تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً 36ہزار 931طلبہ کی اسناد سے متعلق اکیڈمکس کمیٹی کی سخت مؤقف پر مبنی سفارشات مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا لاہور، نیو پورٹس انسٹیٹیوٹ کراچی، PIMST کراچی اور ہجویری یونیورسٹی کے ایسے طلبہ جن کا ریکارڈ مکمل ہے، ان کے معاملات کی دوبارہ جانچ کے لیے ایک آزاد کمیٹی قائم کی جائے گی۔ یہ کمیٹی ایچ ای سی سے باہر کے ماہرین پر مشتمل ہوگی جبکہ ایچ ای سی صرف سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گا۔ اجلاس میں بعض اراکین نے اس فیصلے پر اختلافی نوٹ بھی ریکارڈ کرایا۔ اس کمیشن اجلاس کی صدارت چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی جبکہ وفاقی و صوبائی نمائندوں، وائس چانسلرز اور کمیشن اراکین نے شرکت کی۔ اس 46ویں کمیشن اجلاس میں ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں، غیر مجاز کیمپسز، اسناد کی تصدیق، مصنوعی ذہانت، بین الاقوامی تعلیمی پروگرامز اور جامعات کی پالیسی سازی سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ کمیشن نے ان طلبہ کے معاملات پر بھی غور کیا جن کی اسناد ماضی میں ایچ ای سی سے تصدیق شدہ تھیں مگر بعد ازاں غیر مجاز کیمپسز سامنے آنے پر ان کی تصدیق معطل کردی گئی تھی۔ فیصلہ کیا گیا کہ ان کیسز کی بھی آزاد کمیٹی کے ذریعے دوبارہ جانچ ہوگی اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں اسناد کی تصدیق اور مساوات کے نظام میں بڑی تبدیلی کی منظوری بھی دی گئی۔ ایچ ای سی نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں فزیکل تصدیق کے بجائے مکمل ڈیجیٹل اور شواہد پر مبنی تصدیقی نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سند تصدیق کے لیے سابقہ یا بعد کی تعلیمی اسناد جمع کرانے کی شرط فوری طور پر ختم کردی گئی۔ کمیشن نے “جنریٹو اے آئی” کے استعمال سے متعلق مجوزہ فریم ورک پر بھی غور کیا۔ تاہم اراکین کی مزید آرا شامل کرنے کے لیے اس مسودے کو دوبارہ ماہرین کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ۔ اجلاس میں وزٹنگ فیکلٹی کے لیے نئی گائیڈ لائنز، ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز 2026 کی پالیسی اور ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پالیسی میں ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔ کمیشن اجلاس میں ملک میں بین الاقوامی تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے “ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز 2026” کی مجوزہ پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔ کمیشن نے پالیسی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر ڈاکٹر سید سہیل ایچ نقوی کی جانب سے مزید تجاویز موصول ہوں تو انہیں دو ہفتوں کے اندر پالیسی میں شامل کیا جائے۔ ایچ ای سی کے کمیشن اجلاس میں برطانیہ کے ادارے پیئرسن یو کے کے ایچ این ڈی پروگرامز دوبارہ بحال کرنے کی بھی منظوری دی، تاہم شرط رکھی گئی کہ تمام ادارے ایچ ای سی کے ضوابط، داخلہ معیار اور کوالٹی اشورنس شرائط پر سختی سے عمل کریں گے۔ کراچی کی ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 56 طلبہ کی ڈگریوں کی ایک مرتبہ کے لیے توثیق کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ طلبہ 2018 میں ایچ ای سی این او سی جاری ہونے سے قبل داخل کیے گئے تھے۔ اجلاس میں “کانسورشیم آف ایمرجنگ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹیز (پی-5)” کے قیام کی منظوری بھی دی گئی جس میں سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی نمائندگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ کمیشن نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (ناہی) کے تربیتی پروگرامز نجی جامعات اور سیلف فنانس فیکلٹی تک فیس شیئرنگ بنیادوں پر توسیع دینے کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ای ٹی سی) کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت نان پرافٹ کمپنی کے طور پر رجسٹر کرنے کا عمل شروع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی جبکہ کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کی بحالی کی منظوری دی گئی۔ کمیشن نے ایچ ای سی ملازمین کے لیے میڈیکل ٹریٹمنٹ پالیسی 2025کی منظوری دے دی جبکہ مختلف سلیکشن بورڈز کے فیصلوں، ترقیوں اور تقرریوں کی توثیق بھی کردی گئی۔ ایک اور اہم فیصلے میں کمیشن نے کیمبرج ٹرسٹ کے ساتھ اسکالرشپ معاہدے میں نرمی کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی اسکالر پروگرام مکمل نہ کرسکے تو اس سے اسکالرشپ فنڈز کی ریکوری نہیں کی جائے گی تاکہ کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ شراکت داری برقرار رہ سکے۔ اسی طرح امریکہ میں جے ون ویزا پر موجود ایچ ای سی فنڈڈ اسکالرز کے لیے کمیشن نے فیصلہ کیا کہ اگر متعلقہ اسکالر جرمانے سمیت تمام واجبات ادا کردے تو ایچ ای سی اس کی ویزا ویور درخواست پر “نو آبجیکشن” دے سکے گا، حتمی فیصلہ امریکی حکام کریں گے۔ اجلاس کے اختتام سے قبل وائس چانسلرز کے یکساں تنخواہی پیکج کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس پر وفاقی وزارت تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ جلد وزارت خزانہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔