اسلام آباد(مہتاب حیدر) مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ، یعنی جولائی سے مارچ تک، پاکستان میں قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات ترقیاتی منصوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہے، جبکہ حکومتی مالی حسابات میں موجود ’’شماریاتی فرق‘‘ بھی تقریباً دوگنا ہو گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی رپورٹ کے مطابق حکومت آمدنی اور اخراجات کے اعداد و شمار میں مکمل مطابقت پیدا کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث شماریاتی فرق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں بڑھ کر 444 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 205.69 ارب روپے تھا۔ صوبوں میں سب سے زیادہ فرق پنجاب میں 246.62 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں 111.918 ارب روپے، بلوچستان میں 104.327 ارب روپے اور سندھ میں 39.939 ارب روپے کا فرق سامنے آیا۔وفاقی سطح پر اخراجات کا بڑا حصہ تین اہم شعبوں، یعنی قرضوں کی ادائیگی، دفاع اور ترقیاتی پروگراموں پر مشتمل رہا۔ ان میں سب سے زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئی، جو تقریباً 4.95 کھرب روپے رہی، جبکہ دفاعی اخراجات 1.689 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔