• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو سالانہ ادائیگیاں 3400 ارب تک پہنچ گئیں

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی سالانہ ادائیگیاں 3400 ارب تک پہنچ گئیں، یہ انکشاف گزشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکر ٹیریٹ کے اجلاس میں نیپرا حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں کیا گیا۔قائمہ کمیٹی نے تمام آئی پی پیز کو کی جانے والی انرجی اور کپیسٹی ادائیگیوں کی رپورٹ طلب کر لی، کمیٹی کا وزارتوں میں نجی شعبہ سے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر تعینات کرنے پر اظہارتشویش،سی ایس ایس 2025کے نتائج پر رپورٹ بھی طلب کرلی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈی والا نے کی ۔ ڈی جی نیپرا نےبجلی کے ٹیرف کے تعین کے حوالے سےکمیٹی کو بر یفنگ دی۔ ڈی جی نیپرا نےاجلاس کو بتایا کہ مختلف پاور پالیسیوں کے تحت ٹیرف کا تعین کیا جاتا ہے۔ نیپرا میں عام سماعت کے بعد ٹیرف کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپیسٹی ادائیگیوں اور انرجی ادائیگیوں سے متعلق ایجنڈا نیپرا سے متعلق نہیں ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ آئی پی پیز کے ٹیرف کے تعین کے وقت عام سماعت نہیں ہوتی۔ آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی ادائیگیوں نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے انکشاف کیا کہ جامشورو پاور پلانٹ میں اوور انوائسنگ کی گئی ہے۔
اہم خبریں سے مزید