پشاور ( لیڈی رپورٹر)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کا پنجاب سے گندم کی طویل اور غیر قانونی پابندیوں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مکمل خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار ۔ تفصیلات کے مطابق سرحد چیمبر کے صدر جنید الطاف اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین نعیم بٹ، ضلعی چیئرمینز، عہدیداران نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی گندم کی ضروریات کا زیادہ تر انحصار پنجاب پر ہے، تاہم گزشتہ کئی ماہ سے ترسیل پر غیر قانونی پابندیاں عائد ہیں جو آئین کے آرٹیکل 151 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث صوبے کے تقریباً 300 فلور ملز شدید بحران کا شکار ہیں اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہری شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔نعیم بٹ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 53 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ مقامی پیداوار صرف 12 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس سے 41 لاکھ میٹرک ٹن کا شارٹ فال پیدا ہوتا ہے، جو پنجاب سے ترسیل کے ذریعے پورا کیا جاتا ہےانہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کر کے غیر قانونی طور پر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جس سے ترسیل میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم ، صدر مملکت اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اس مسئلے کے فوری حل کے لئے کردار ادا کریں، شرکاء نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جی ٹی روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا اور مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔مقررین نے کہاپنجاب سے گندم کی ترسیل پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک وسیع کر دیا جائے گا۔