پشاور (خصوصی نامہ نگار) صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت ایم سی سی کے کامیاب بولی دہندگان کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت سے متعلق مختلف امور اور واجبات کی ادائیگی کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں کامیاب بولی دہندگان نے صوبائی وزیر صحت کو آگاہ کیا کہ محکمہ صحت کی جانب ان کے تقریباً دو ارب روپے کے واجبات تاحال زیر التواء ہیں، جس کے باعث متعلقہ منصوبوں اور طبی سہولیات کی فراہمی کے عمل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ تمام واجبات کی ادائیگی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کا عمل متاثر نہ ہو۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام التواء واجبات ایک ہفتے کے اندر کلیئر کیے جائیں اور اس حوالے سے باقاعدہ رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر شاہین آفریدی کو ہدایت کی کہ ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر کے اسباب کا جائزہ لیا جائے اور ان افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جو تمام قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضے مکمل ہونے کے باوجود ادائیگیوں میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔وزیر صحت نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں شفافیت، بروقت ادائیگیوں اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے منصوبوں میں تاخیر یا رکاوٹ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ، عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون اور اعتماد کی فضا کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ صحت کے شعبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور طبی سہولیات کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔