• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذرائع آمدن سے زائد اثاثے، ایف بی آر کو سرکاری ملازمین کیخلاف تحقیقات کا اختیار دیا جائے گا

اسلام آباد(مہتاب حیدر/تنویر ہاشمی)ایف بی آر کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کر سکے جن کے اثاثے جائز ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں، خصوصاً اگر وہ مسلسل تین برس تک اثاثہ جات کا گوشوارہ جمع کراتے رہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نگرانی کا نظام سرکاری افسران کی دولت اور اثاثوں میں غیر معمولی اضافے پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا۔یہ تفصیلات سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے فراہم کیں، جس کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والاکی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، نبیل اعوان نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو ایک ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے ذریعے عوامی طور پر دستیاب کر دیا جائے گا، جسے ایف بی آر کے مشورے سے تیار کیا جا رہا ہے۔مجوزہ نظام کے تحت سرکاری افسران کو اپنے خاندان کے اثاثوں اور بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ ایف بی آر کے اعلیٰ حکام، بشمول چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو، کو اختیار ہوگا کہ وہ AI کی مدد سے ہونے والی جانچ پڑتال کے دوران اثاثوں میں مشکوک یا غیر معمولی اضافے کی صورت میں تحقیقات شروع کر سکیں۔

اہم خبریں سے مزید