اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے) چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق ابھی تک میرے علم میں کوئی بات نہیں ، پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں، بجٹ سے متعلق تجاویز کیلئے چار رکنی کمیٹی بنادی ، جو اراکین پارلیمان راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا اور نوید قمر پر مشتمل ہے ۔ پیپلز پارٹی کی کمیٹی بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز حکومت کے سامنے رکھے گی۔پاکستان پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب اور بعد میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ پر مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،وزیر اعظم شہباز شریف سے میری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی بات ہوتی رہتی ہے، لیکن نئی آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت نے آج تک پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم میں پیپلز پارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ہم نے صوبوں کے حقوق کم نہیں ہونے دیے، بلکہ مزید حقوق دیے۔ ہماری ترامیم سے بلوچستان کی سینیٹ میں نمائندگی بڑھی۔ ملک کی عوام مہنگائی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ہم نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ان مسائل کو مسلسل اٹھایا ہے۔ جب وزیر اعظم نے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا تو ہم نے اس کا خیرمقدم کیا۔ مہنگائی کے خاتمے کے لیے سب کی مشاورت سے صوبوں کی سپورٹ کا فیصلہ کیا گیا، جس میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ریلیف دینے پر تمام صوبوں نے حمایت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر مزدور کارڈ کے ذریعے لاکھوں کسانوں کی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ترمیم اور قومی مسئلے پر ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بھارت سے جنگ کے دوران ایک محب وطن کے طور پر میں نے بین الاقوامی میڈیا پر ملک کے دفاع کے لیے آواز اٹھائی۔ جنگ کے بعد وزیر اعظم نے مجھ سے امن کمیٹی کی قیادت کی درخواست کی۔ ایران،امریکہ کشیدگی میں بھی ہم نے وفاقی حکومت کا پورا ساتھ دیا۔ ہم سب پاکستانی ایسے معاملات میں متحد ہوتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت بلاول بھٹو زرداری نے کی۔ جس میں خاتون اول اوررکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے شرکت کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سعودی عرب، دبئی اور ایران کے ساتھ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے تعلقات نسلوں پرانے ہیں۔