• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں 4 سال بعد پٹرول کی قیمتوں میں صرف 3 روپے اضافہ

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت میں 4 سال بعد پٹرول کی قیمتوں میں صرف 3 روپے اضافہ، انڈیا میں پیٹرول 284 روپے، پاکستان میں 414.78 روپے لیٹر، بھارت میں ڈیزل 263، پاکستان میں 409.58 روپے لیٹر ہے۔ابنائے ہرمز کی بندش، بھارت نے صرف 3فیصد اضافہ کیا، پاکستان میں 55 فیصد، بنگلہ دیش میں 16 فیصد ہوا۔ بھارت میں عوام پر صرف 3روپے کا بوجھ، تیل کمپنیاں روزانہ 29 سے 49 ارب روپے کا نقصان اٹھا رہی ہیں۔ بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں چار سال بعدصرف تین فیصد یعنی تین روپے اضافے نے عالمی تناظر میں ایک منفرد مثال قائم کی ہے، جہاں 2022 کے بعد تین روپے اضافے کے ساتھ پیٹرول کی قیمت 284 روپے(97.77 بھارتی روپے) فی لیٹر اور ڈیزل 263 روپے(90.67 بھارتی روپے) فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔یہ 15 مئ کی دہلی کی قیمت ہے، اس کے برعکس پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 9 مئی سے 414.78روپے فی لیٹر اور ڈیزل 414.58 تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والے اضافوں کے مقابلے میں بھارت میں اضافہ محض تقریباً 3 فیصد رہا، جبکہ میانمار میں 90 فی صد، ملائیشیا میں 56 فیصد، پاکستان میں 55 فیصد، متحدہ عرب امارات میں 52 فیصد ، امریکہ میں 45 فیصد ، کینیڈا میں 31 فی صد،چین میں 21فی صد،برطانیہ میں 19 فی صد اوربنگلادیش میں 16فی صد اضافہ ہوا جبکہ سعودی عرب میں کوئی اضافہ نہیں ہواـ یہ صورتحال بنیادی طور پر ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کا نتیجہ ہے۔ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خام تیل کی قیمت 100 سے 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا اور کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس عالمی دباؤ کے باوجود مختلف ممالک نے اپنے اپنے معاشی حالات کے مطابق قیمتوں میں اضافہ کیا۔ بھارت نے اس بحران کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنے کے بجائے ایک مختلف حکمت عملی اپنائی۔ سرکاری تیل کمپنیاں گزشتہ ایک ماہ سے روزانہ 29 ارب سے 49ارب روپے( 1000سے 1700 کروڑ بھارتی روپے) تک کا نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 75 روپے(26 بھارتی روپے) اور ڈیزل پر238روپے( 82 بھارتی) روپے کا خسارہ برداشت کیا جا رہا ہے، تاہم صارفین پر صرف 3 روپے فی لیٹر کا بوجھ ڈالا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔ یاد رہے۔ بھارت میں 2017 سے روزانہ قیمت نظام نافذ ہے، جس کے تحت قیمتیں روزانہ معمولی اوپر نیچے ہوتی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید