کراچی (رفیق مانگٹ) سازش یا سیاسی حقیقت، کیا مسلم دنیا میں تقسیم کی کوششیں جاری ہیں؟ مغربی میڈیا کی طرف سے مبالغہ آمیز خبریں پھیلانے کا سلسلہ شروع، غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں, سب جانتے ہیں کہ کون سا ملک ان کو لڑانے میں پیش پیش ہے؟ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث، نیتن یاہو کے خفیہ دورے کے انکشاف پر امارات کا اسرائیل سے باضابطہ احتجاج، اماراتی سفیر نے پیغام پہنچایا۔ امریکی جریدے کا کہنا ہے امارات نے ایران کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کیلئے کہا، سعودیہ، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے انکار کر دیا، متحدہ عرب امارات اور خطے سے متعلق حالیہ سفارتی معاملے پر سوشل میڈیا، بعض سابق سفارتی عہدیداروں اور مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ یو اے ای کے حوالے سے گردش کرنے والی بعض خبریں اور بیانیے مبالغہ آرائی یا من گھڑت معلومات پر مبنی ہیں۔یہ مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کی سازش ہے، ایسے بیانیے خطے کے مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ کونسا ملک ان کو لڑانے میں پیش پیش ہے. آپس میں غلط فہمیاں پھیلا کر یو اے ای کی حکومت کو شرمندگی میں ڈالا جا رہا ہے. اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں رپورٹس سے ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسلمان ممالک آپس میں الجھ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ہاہو کے دورے سے متعلق رپورٹوں کی اشاعت نے متحدہ عرب امارات میں تشویش پیدا کر دی، خاص طور پر اس کے بعد جب وزیر اعظم کے دفتر نے اس دورے کی تصدیق کر دی۔ اماراتی حکام نے اسرائیل کو باضابطہ سفارتی احتجاج پیش کیا، جس کا پیغام اماراتی سفیر محمد الخجہ نے براہ راست اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے عہدیداروں کو پہنچایا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اماراتی فریق نے اس مبینہ “لیک” پر شدید ناراضی کا اظہار کیا، اور اسے ایک حساس سفارتی معاملہ قرار دیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ملک کی جانب سے نیتن یاہو کے مبینہ دورے کی تردید نے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں موجود پیچیدگیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگی صورتحال کے دوران یو اے ای کا غیر اعلانیہ دورہ کرنے کا دعویٰ کیا، جہاں ان کی ملاقات امارات کے صدر سے ہوئی۔