• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ طاس معاہدہ، ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں فیصلہ

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان نے دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت میں ایک بڑی قانونی جنگ جیت لی ہے۔ عدالت نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے تحت آنے والے دریاؤں پر بھارت کی طرف سے تعمیر کیے جانے والے پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے حساب کتاب کے طریقہ کار پر پاکستان کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، ثالثی عدالت نے 15 مئی کو پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کا تعین کرنے کے بھارتی انداز فکر کو مسترد کرتے ہوئے اس کے طریقہ کار کو ’’مصنوعی‘‘ اور سندھ طاس معاہدے کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ کیس کی حساسیت کے باعث اگرچہ عدالت ثالثی کا یہ فیصلہ ابھی باضابطہ طور پر شائع نہیں کیا گیا، تاہم اسلام آباد میں اسے ایک بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چونکہ بھارت نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پر سب سے پہلے عوامی سطح پر ردعمل کا اظہار کیا تھا، اس لیے بعد میں پاکستان نے بھی ٹریبونل سے اپنا بیان جاری کرنے کی اجازت حاصل کر لی۔ یہ اجازت اس حقیقت کے باوجود دی گئی کہ فیصلہ ابھی تک باضابطہ طور پر شائع نہیں ہوا ہے اور کیس کی حساسیت کے باعث اس کی تشہیر پر پابندی عائد ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا مرکزی نقطہ بھارت کا وہ طریقہ کار تھا جس کے تحت وہ پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے حجم کو پاکستان کے حصے کے پانی کے قدرتی بہاؤ اور وقت پر آگے چھوڑنے کے اصولوں کے بجائے، اپنی بجلی کی پیداواری ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کر رہا تھا۔ پاکستان نے ثالثی عدالت کے سامنے بھارت کے اس طریقہ کار کو چیلنج کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ اندازفکر بھارت کو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ اجازت سے کہیں زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بنانے کی سہولت دیتا ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے ایڈیشنل سیکرٹری اور ترجمان سید مہر علی شاہ نے بتایا کہ ٹریبونل نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کر لیا ہے اور یہ فیصلہ دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر ان بنیادوں پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کا تعین نہیں کر سکتا جنہیں پاکستان نے ’’مصنوعی‘‘ قرار دیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید