• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پر اسلام آباد کا اظہار اطمینان

اسلام آباد (نیوز رپورٹر، ایجنسیاں) حکومتِ پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ کے تحت جاری کارروائی میں رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیزائن سے متعلق تنازعات کے ضمن میں 15 مئی 2026 کو عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے جاری کردہ ’’زیادہ سے زیادہ ذخیرۂ آب‘‘ (Maximum Pondage) سے متعلق ضمنی فیصلے پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا ہے،عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اپنی مرضی سے اضافہ نہیں کر سکتا اور اسے ہر منصوبے کا ڈیزائن معاہدے کی طے شدہ حدود اور حقیقی تکنیکی ضروریات کے مطابق رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے،حکومتِ پاکستان کے مطابق بھارت کو ڈیزائن میں مصنوعی اضافے سے روک دیا گیا ثالثی عدالت کا فیصلہ فریقین پر حتمی اور لازمی ہے، اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی ذرائع استعمال کریں گے، حکومت پاکستان کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے اس بنیادی مؤقف کی توثیق کرتا ہے کہ معاہدہ مغربی دریاؤں پر بھارت کی پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر ٹھوس اور حقیقی حدود عائد کرتا ہے، یہ حدود محض رسمی نوعیت کی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مرحلے پر ہی لاگو ہوتی ہیں اور انہیں بعد میں آپریشنل احتیاط کی یقین دہانی کے ذریعے پورا نہیں کیا جا سکتا، کسی رَن آف دی ریور منصوبے کیلئے ذخیرۂ آب کا جواز حقیقی منصوبہ جاتی ضروریات، متوقع عملی آپریشن، مقام کی ہائیڈرولوجیکل و ہائیڈرولک صورتحال، پاور سسٹم کی ضروریات اور معاہدے کے تحت مطلوب معلومات و وضاحت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ 8 اگست 2025 کے عدالت کے ’’جنرل ایشوز ایوارڈ‘‘ کی بنیاد پر یہ ضمنی فیصلہ اس اصول کو عملی شکل دیتا ہے کہ نصب شدہ پیداواری صلاحیت (Installed Capacity) اور متوقع لوڈ (Anticipated Load) حقیقت پسندانہ، مضبوط بنیادوں پر مبنی اور قابلِ دفاع ہونے چاہیئں، نصب شدہ صلاحیت کا تعلق منصوبے کے حقیقی متوقع آپریشن، ہائیڈرولوجیکل و ہائیڈرولک اعداد و شمار اور معاہدے کے تقاضوں سے ہونا لازم ہے، اسی طرح متوقع لوڈ کا تعلق بھی منصوبے کے حقیقی متوقع آپریشن اور اُس پاور سسٹم کی متوقع ضروریات سے ہونا چاہیے جسے یہ منصوبہ بجلی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید