کراچی( سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لئے “ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز” سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جو فوری نافذ العمل ہوگا۔ “ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز” کی اس نئی جامع پالیسی کے تحت پاکستانی جامعات مقامی اور غیرملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ مشترکہ تعلیمی پروگرام شروع کرسکیں گی۔ نئی پالیسی کے مطابق پاکستانی اور غیرملکی جامعات باہمی اشتراک سے ایسے پروگرام متعارف کرا سکیں گی جن کے تحت طلبہ ایک ہی عرصے میں دو ڈگریاں یا مشترکہ ڈگری حاصل کرسکیں گے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی تعلیمی روابط کو فروغ دینا، طلبہ کی بین الاقوامی نقل و حرکت بڑھانا، تحقیق میں تعاون کو وسعت دینا اور پاکستانی گریجویٹس کی عالمی سطح پر پذیرائی اور ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ پالیسی کے تحت “ڈوئل ڈگری” میں طلبہ دو مختلف یا قریبی شعبوں میں دو الگ ڈگریاں حاصل کرسکیں گے، جبکہ “ڈبل ڈگری” کے تحت ایک ہی مضمون میں دو جامعات کی الگ الگ ڈگریاں دی جائیں گی۔ اسی طرح “جوائنٹ ڈگری” پروگرام میں دو یا زائد جامعات مشترکہ طور پر ایک ہی ڈگری جاری کریں گی جس پر تمام شریک جامعات کے دستخط ہوں گے۔ ایچ ای سی کے چیرمین ڈاکٹر نیاز احمد کے مطابق ایسے تمام پروگرام صرف انہی غیرملکی جامعات کے ساتھ کیے جاسکیں گے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہوں اور جن کے متعلقہ پروگرام عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ دونوں اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoC) لازمی ہوگی جس میں فیس، کریڈٹ ٹرانسفر، امتحانی نظام، طلبہ کی نقل و حرکت، تحقیق، ڈگری کے اجرا اور طلبہ کے تحفظ سے متعلق تمام امور درج ہوں گے۔ پالیسی کے مطابق طلبہ کو ایک جامع “ڈپلومہ سپلیمنٹ” بھی جاری کیا جائے گا جس میں واضح ہوگا کہ طالبعلم نے کس جامعہ میں کتنے کریڈٹس مکمل کیے، کون سی زبان میں تعلیم حاصل کی اور پروگرام کی نوعیت کیا تھی۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اس پالیسی سے پاکستانی طلبہ کو بیرون ملک مکمل ڈگری حاصل کرنے کے بھاری اخراجات کے بغیر عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔ طلبہ ایک ہی پروگرام کے دوران غیرملکی جامعات کے اساتذہ، تحقیقی سہولیات اور جدید نصاب سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے ان کی علمی استعداد اور عملی مہارت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ عالمی ڈگری یا مشترکہ ڈگری رکھنے والے گریجویٹس کے لیے بین الاقوامی ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی بڑھ جائیں گے۔ جامعات کے لیے بھی یہ پالیسی اہم سمجھی جارہی ہے کیونکہ اس سے پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی جامعات کے ساتھ تحقیقی روابط، فیکلٹی ایکسچینج، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری کے مواقع میسر آئیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کی جامعات میں بین الاقوامی طلبہ کی آمد، علمی ماحول میں بہتری اور جدید تدریسی و تحقیقی نظام کے فروغ میں مدد ملے گی۔ ایچ ای سی کے مطابق تمام مشترکہ پروگراموں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی اور جامعات کو طلبہ کے معیار، تحقیق، روزگار کے مواقع اور تعلیمی کارکردگی سے متعلق سالانہ رپورٹس جمع کرانا ہوں گی۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے پروگراموں کے خلاف کارروائی بھی کی جاسکے گی۔