٭میری طرف آکر تو دیکھ، متوجّہ نہ ہوں تو کہنا۔
٭میری راہ میں نکل کر تو دیکھ، راہیں نہ کھول دوں تو کہنا۔
٭میرے لیے بےقرار ہو کر تو دیکھ، قرار کی حد نہ کردوں تو کہنا۔
٭میرے لیے ملامت سہہ کر تو دیکھ ، اکرام کی انتہا نہ کردوں تو کہنا۔
٭میرے لیے لُٹ کرتو دیکھ، رحمت کے خزانے نہ لُٹا دوں تو کہنا۔
٭میرے کُوچے میں بِک کر تو دیکھ، اَن مول نہ کردوں تو کہنا۔
٭دھونی رما کرتو دیکھ، علم وحکمت کے موتی نہ بکھیردوں تو کہنا۔
٭مجھے اپنا رب مان کر تو دیکھ، عطا کی حد نہ کردوں تو کہنا۔
٭میرے نام کی تعظیم کرکے تو دیکھ، تکریم کی حد نہ کردوں تو کہنا۔
٭میری راہ میں نکل کر تو دیکھ، اسرار عیاں نہ کردوں تو کہنا۔
٭اپنی ہستی فنا کر کے تو دیکھ، جامِ بقا سے سرفراز نہ کردوں تو کہنا۔
٭مجھے حئی القیوم مان کر تو دیکھ، ابدی حیات کا امین نہ بنا دوں تو کہنا۔
٭بالآخر میرا ہو کر تو دیکھ، ہر کسی کو تیرا نہ بنا دوں توکہنا۔
(سلطان لطیف)
حضرت جنید بغدادیؒ کہتے ہیں۔ ’’مَیں نے اِخلاص ایک حجام سے سیکھا۔ ایک دن میرے اُستاد نے کہا کہ تمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں۔ اب کٹوا کے آنا! میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ حجام کی دُکان کے سامنے پہنچا۔ تو وہ گاہک کے بال کاٹ رہاتھا۔ مَیں نے عرض کیا۔ چاچا!اللہ کے نام پہ بال کاٹ دوگے؟
یہ سُنتے ہی حجام نے گاہک کوسائیڈ پرکیا اور کہنے لگا۔ پیسوں کے لیے تو روز کاٹتا ہوں۔ آج کوئی اللہ کےلیے آیا ہے۔ اور پھر میرا سرچوم کر کرسی پہ بٹھایا۔ روتا جاتا اور بال کاٹتا جاتا۔ مَیں نے سوچا، جب کبھی زندگی میں پیسے ہوئے، تو اس کو ضرور کچھ دوں گا۔
عرصہ گزر گیا۔ مَیں ایک دن اُس سے ملنے گیا۔ واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔ تو حجام کہنے لگا۔ ’’جنید! تُو اتنا بڑا صوفی ہوگیا، تجھےاتنا نہیں پتاچلا کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے، اُس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے۔‘‘ (مہر منظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا)