• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افروز عنایت

وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ ہر لمحہ، ہر آن نِت نئے رحجانات سامنے آ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہمارا رہن سہن، طور طریقے، مشاغل اور دِل چسپیاں بھی سرعت سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آج سے چند دہائیاں قبل عیدین کے موقعے پر جس قدر اہتمام وانصرام کیا جاتا تھا اور جوجوش وخروش بچّوں، جوانوں، بزرگوں اور خواتین میں دکھائی دیتا تھا، عصرِ حاضر میں وہ خاصی حد تک کم بلکہ مفقود ہی ہوگیا ہے۔

جب چند دہائیاں قبل کے مہ وسال پر نظر دوڑاتے ہیں اور ان کاموازنہ موجودہ معمولاتِ زندگی سے کرتے ہیں، تو بہت کچھ بدلا بدلا نظر آتا ہے۔ عالم یہ ہے کہ ماضی کے شان دار شب و روز کی یاد آتے ہی چہرے پر مسکراہٹ سی بکھر جاتی ہے، بالخصوص عیدین کی رُوح پرور خوشیاں، مسرّتیں تو ہم کبھی فراموش ہی نہیں کرسکتے۔

ہمیں اچّھی طرح یاد ہے کہ عید سے ایک روز قبل چچا جان ہم بہنوں کو گھر کے قریب واقع بازار، جامعہ کلاتھ مارکیٹ لے کر جاتے اور کانچ کی رنگ برنگی چوڑیاں خرید کر ہاتھوں میں پہنواتے اوروہ چوڑیاں ہماری عید کی خوشیوں کو چار چاند لگا دیتی تھیں کہ ہم ہمیشہ اُن کی چھن چھن میں بڑی شان سے گھر میں داخل ہوتے اور اگر رستے میں کوئی سکھی سہیلی مل جاتی، تو بڑے فخر سے اُسے وہ چوڑیاں دِکھاتے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارا تعلق ایک خوش حال گھرانے سے تھا، ہمیں زندگی کی تمام آسائشیں میسّرتھیں۔ امّاں ہمارے لیے عید کے بہترین ملبوسات تیارکرواتیں، لیکن پھر بھی ہمیں سب سے زیادہ خوشی کانچ کی وہ چوڑیاں پہن کر ہی محسوس ہوتی تھی۔

پھر ہم اُن چوڑیوں کی شان بڑھانے کے لیے محلے کی ایک خاتون کے پاس منہدی لگوانے جاتے، جہاں پہلے ہی محلے بَھر کی لڑکیوں اور خواتین کا رش لگا ہوتا۔ وہ خاتون اپنی بیٹی اور دو، تین دیگرخواتین کے ساتھ مل کر نہایت مہارت سے منہدی لگاتی تھیں اور اس کی پیشگی بکنگ کروانا پڑتی تھی، جو امّاں کروا دیتی تھیں۔ 

پھر ہم منہدی لگے ہاتھوں اور رنگ برنگی کانچ کی چوڑیوں سے بَھری کلائیاں کھنکھناتے پورے گھر میں گھومتے پھرتے اورعیدالاضحیٰ کے موقعے پر تو اپنی یہ تیاری ٹیرس پر موجود بکروں کو دِکھانے سے بھی باز نہ آتے۔ رات امّاں کے بےحد اصرار پر بستر پر لیٹ تو جاتے، لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دُور ہی رہتی۔ یہاں تک کہ جب کافی تگ و دو کے بعد نیند اپنی آغوش میں سمیٹتی، تو خوابوں میں بھی خُود کو عید کا خُوب صُورت جوڑا زیبِ تن کیے، کلائیوں میں رنگ برنگی چوڑیاں پہنے اور ہاتھوں پرمنہدی لگائے گھومتے پِھرتے ہی دیکھتے۔

بقرعید کے روز صبح سویرے ہی گھر بھر میں ایک رونق سی لگ جاتی۔ آس پڑوس کے رہنے والے، قریبی رشتے دارعید کی مبارک باد دینے باقاعدہ ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے۔ ہمارے دادا جان خاندان کی سب سے بزرگ شخصیت تھے، لہٰذا خاندان کے سبھی مَردوں اور بچّوں کا ان سے عید ملنا لازمی سمجھا جاتا تھا۔

قربانی ہوتے ہی اُس کے گوشت میں سے پانچ، چھے کلو گوشت امّاں اپنے مخصوص انداز سے اُن مہمانوں کے لیے تیار کرتیں اورکسی کو بھی دوپہر کا کھانا کھائے بغیر جانے نہ دیا جاتا۔ بہ صُورتِ دیگر اِسے مہمان اور میزبان دونوں کی تضحیک سمجھاجاتا۔

ہمیں اپنی ان عادات کی خُوب صُورت سی جھلک اپنی بیٹیوں کے اطوار میں بھی نظر آتی تھی، لیکن کچھ مختلف انداز میں۔ ہماری بیٹیاں بھی ہماری طرح بچپن میں کانچ کی چوڑیاں پہننے اور منہدی لگانے کی شوقین تھیں۔ چوں کہ ہمارے ماموں، چچا، خالائیں اور دیگر رشتے دار گھر کے قریب ہی رہتے تھے، تو ہماری بیٹیاں اور ان کی کزنز وغیرہ عیدین کے موقعے پر کسی ایک گھرمیں جمع ہو کر ایک دوسرے کے ہاتھوں پر منہدی لگاتی تھیں۔

ہماری ایک صاحب زادی، جو اس وقت تین چھوٹے چھوٹے بچّوں کی ماں ہے،مزے لے لےکراپنے بچّوں سے یہ بیتے ہوئے خوش گوار لمحات شیئر کرتی ہے اور اکثر اوقات ہمیں مخاطب کرتے ہوئے حسرت سے کہتی ہے کہ ’’امّاں! پہلے رشتوں میں کتنی محبّت اور اپنائیت تھی… نہ جانے وہ سب کچھ کہاں کھو گیا؟‘‘ تب ہمارے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اگر ہماری اقدار اِسی طرح تیزی سے بدلتی رہیں، تو چند دہائیوں بعد ہماری پوتیاں اور نواسیاں اپنے بچپن کی عید کے لمحات اپنے بچّوں سے شیئر کرتے ہوئے یہی کہیں گی کہ ’’ہماری عید اپنے موبائل فونز کے ساتھ گزرتی تھی۔ ہم عید پر نئے کپڑے تیار کرواتے تھے اور مما ہمارے لیے چوڑیاں بھی لاتی تھی، لیکن ہمیں یہ کانچ کی چوڑیاں کچھ زیادہ پسند نہیں تھیں۔

ہمیں سب سےزیادہ مزہ اسکول کی عید ملن پارٹی میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہلا گلا کرنے میں آتا تھا۔ ہم اپنے موبائل فونز سے پارٹی کی ڈھیروں ویڈیوز بناتے اور پھر ایک دوسرے سے شیئر کرکے کئی روز تک خُوب لُطف اندوز ہوتے۔‘‘ مطلب، رشتے داروں کے ساتھ بیتے لمحات اُن کی یادوں میں شامل ہی نہیں ہوں گے، جو ہماری نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے گراں قدر سرمائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قصّہ مختصر، اگر ہم عید کی وہی رونقیں، رعنائیاں اور مسرّتیں دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی نئی نسل میں قریبی رشتوں کی اہمیت اور عزیزواقارب سے میل ملاپ کی حسین روایت کو اُجاگرکرنا ہوگا، کیوں کہ عیدین کا اصل مزہ اور حُسن ویڈیوز، سیلفیز بنانے میں نہیں، اپنےرشتےداروں،دوست احباب کے ساتھ خوش گوار، یادگار لمحات گزارنے میں پنہاں ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید