کراچی (اسٹاف رپورٹر) بنگلہ دیش کے دورے میں پاکستانی ٹاپ آرڈر بیٹنگ بری طرح ناکام رہی ہے۔ سلہٹ ٹیسٹ بچانے یا437رنز کا ہمالیہ عبور کرنے کیلئے گرین شرٹس کو دو دن میزبان بولروں کا جواں مردی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ کام یقینی طورپر بہت مشکل ہے،اس میں جیت حاصل کرنا خوابوں کی تعبیر ہوگی لیکن ناکامی ٹائیگر کے خلاف مسلسل دوسرے وائٹ واش کا عذاب بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان نے کبھی چوتھی اننگز میں چار سو رنز بناکر ٹیسٹ میچ نہیں جیتا ہے۔ پاکستان نے برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف 450رنز بنائے اور میچ40رنز سے ہارگئے۔ آسٹریلیا کے خلاف کراچی میں سات وکٹ پر443رنز بناکر میچ کو ڈرا کیا تھا۔ تین جولائی2015میں پاکستان نے ریکارڈ382 رنز بناکر پالے کیلے ٹیسٹ جیتا تھا جبکہ بنگلہ دیش نے سری لنکا کے خلاف میرپور میں413رنز بنائے تھے لیکن اسے شکست ہوئی۔ فروری2021میں چٹو گرام میں ویسٹ انڈیز نے سات وکٹ پر395رنز بناکر سات وکٹ سے میچ جیتا ۔ ڈھاکا میں پہلا میچ جیتنے کے بعد بنگلہ دیش کو برتری حاصل ہے۔ مشفق الرحیم نے سیریز میں دوسری اور اپنے ملک کیلئے سب سے14ویں ٹیسٹ سنچری بنائی ۔ پیر کو بنگلہ دیش ٹیم دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن دوسری اننگزمیں390رنز بناکر آئوٹ ہوگئی۔ جواب میں پاکستان نے دو اوورز میں بغیر کسی نقصان کے کوئی رن نہیں بنایا تھا کہ خراب روشنی کی وجہ سے کھیل ختم کردیا گیا ۔ پیر کو بولنگ کیلئے مشکل دن تھا ، بنگلہ دیشی بیٹرز آزادانہ اسٹروکس کھیلتے ہوئے بڑا اسکور کرنے میں کامیاب رہے۔ مشفق الرحیم 137 رنز کی اننگز کھیل کر ٹاپ اسکورر رہے۔ مشفق نے لٹن داس کے ساتھ پانچویں وکٹ کیلئے 123 اور تیج الاسلام کے ساتھ ساتویں وکٹ پر 77 رنز کا اضافہ۔ انہوں نے بارہ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ وہ 103ویں اوور میں گرنے والی بنگلہ دیش کی آخری وکٹ تھے۔ پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے لٹن داس اور اوپنر محمود الحسن جوائے نے نصف سنچریاں بنائیں۔ شاہین آفریدی کی جگہ ٹیم میں آنے والے خرم شہزاد سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے اس اننگز میں بھی چار وکٹیں86رنز کے عوض لیں اور میچ میں مجموعی طورپر آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اسپنر ساجد خان نے126رنز دے کر تین، حسن علی نے دو جبکہ محمد عباس نے ایک وکٹ لی۔