• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’خوف سے مذاق‘‘ تک کا سفر: پاکستانی اٹیک، ساکھ اور کاٹ کھوچکا

کراچی (جنگ نیوز) وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ، وقار یونس کے مہلک یارکرز اور شعیب اختر کی رفتارسے دنیا کو دہشت زدہ کرنے والاپاکستانی ٹیم کا بولنگ اٹیک آج اپنی کاٹ، رفتار اور ساکھ کھو چکا ہے۔ سلہٹ ٹیسٹ میں پیس اٹیک کی بے بسی نے ثابت کر دیا ہے کہ اب یہ حریف بیٹرز کیلئے خطرہ نہیں کھلونا بن کر رہ گیا ہے۔گزشتہ دو سالوں میں حریف ٹیموں کے آخری چار بیٹرز نے پاکستان کے خلاف اوسطاً 27.42 رنز بنائے، جو تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ معروف کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کی فاسٹ بولنگ اس وقت تاریخ کے پست ترین مقام پر ہے ۔ 2022 سے اب تک فاسٹ بولرز کی فی وکٹ اوسط 37.32 رہی ہے، جو آئرلینڈ کو چھوڑ کر تمام ٹیسٹ نیشنز میں بدترین ہے۔ سلہٹ ٹیسٹ میں خرم شہزاد کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک گر گئی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹیم کا پیس اٹیک اب محض میڈیم پیس تک محدود ہو چکا ہے ۔ شاہین کی اوسط 2022 کے بعد 40 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ نسیم شاہ میڈیکل روم یا وائٹ بال کرکٹ کی نذر ہو چکے ہیں۔

اسپورٹس سے مزید