• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائفر کی نقل نے عمران کے امریکی سازش کے بیانیے پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا

اسلام آباد (فخر درانی) سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے منسوب سائفر سے متعلق طویل عرصے سے جاری سیاسی تنازع ایک بار پھر اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی صحافیوں نے سفارتی دستاویز کی ایک مبینہ نقل جاری کی، جس سے 2022ء کے سب سے متنازع سیاسی بیانیوں میں سے ایک پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی۔ سائفر کی اس نقل کے اجراء سے دی نیوز کی 9؍ جنوری 2025ء کی رپورٹ کے اہم نکات کی بھی توثیق ہوگئی ہے۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد اور سائفر کو امریکا مخالف حکومت کی تبدیلی کے اپنے بیانیے کا محور بنانے سے قبل اپنی حکومت بچانے کیلئے تمام ممکنہ سیاسی اور ادارہ جاتی راستے اختیار کیے۔ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے، سیاسی مفاہمت اور قبل از وقت انتخابات جیسے آپشنز پر غور کیا گیا، جبکہ سائفر موصول ہونے سے لے کر حکومت کے خاتمے تک یہ کوششیں جاری رہیں۔ سائفر کی نقل سامنے آنے سے ان واقعات پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ سائفر کے سیاسی استعمال کا پہلو ایک مبینہ لیک شدہ آڈیو میں بھی سامنے آیا جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کے اُس وقت کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان گفتگو شامل ہے، اس آڈیو میں دونوں اس بات پر تبادلہ خیال کرتے نظر آتے ہیں کہ اس سفارتی مراسلے کو سیاسی مقاصد کیلئے کس طرح سامنے لایا جا سکتا ہے۔ آڈیو میں مبینہ طور پر عمران خان کو یہ کہتے سنا گیا کہ سائفر کے معاملے سے سیاسی طور پر کیسے ’’کھیلنا‘‘ ہے، جس سے یہ سوال سامنے آیا کہ اسے حکومت کے خاتمے کے گرد بیانیہ تشکیل دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ذیل میں سائفر موصول ہونے اور عدم اعتماد کے ووٹ کے درمیان ہونے والے اہم واقعات کی ٹائم لائن دی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے 8؍ مارچ 2022 کو عدم اعتماد کی تحریک پیش کی، جبکہ اسی رات پاکستان کے دفترِ خارجہ کو سائفر موصول ہوا۔ ذرائع کے مطابق 9؍ مارچ کو یہ دستاویز اُس وقت کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو دی گئی، جنہوں نے بعد میں وزیرِ اعظم عمران خان کو اس سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق 12؍ مارچ کو عمران خان نے منتخب صحافیوں کو بتایا کہ انہیں ’’بہت اہم‘‘ ہاتھ لگی ہے اور دیکھتے ہیں کہ انہیں عدم اعتماد کے ذریعے کیسے ہٹایا جاتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید