دُنیا کے لیے اصغر ندیم سیّد اور ہمارے ’’شاہ جی‘‘ کی شخصیت کسی طلسمِ ہوش رُبا سے کم نہیں۔ آپ بھی یہ کہانی سُنیں گے تو لازماً خاکے کی آخری سطر پر ٹھہر کر مجھ سے اتفاق کریں گے۔ شاہ جی کا زندگی کرنے کا اپنا رنگ ڈھنگ اور اپنا ناز انداز ہے۔ انہیں چاہے بادشاہ، شہنشاہ بھی ضیافت پر بُلا لیں اور تاج محل ہی میں محفل کیوں نہ سجا لیں، شاہ جی کو آٹھ (حد) ساڑھے آٹھ بجے تک گھر پہنچنا ہوتا ہے۔
شاہ جی حالتِ حال اور احوالِ خمار میں کسی تاخیر، نیز ملاوٹ کے قائل نہیں۔ ہماری اُن سے نیازمندی کو کئی برس ہونے کو آئے۔ ایک سے بڑھ کے ایک کہانی ہے، جو خُود کو سُنائے جانے کی منتظر ہے۔ دھڑکتا بھڑکتا الاؤ جلا کر، سُننے والے اُس کے اردگرد دائرے میں بیٹھیں تو ہم کہانی شروع کریں۔ کہیں سے بھی شروع کرلیجے، دل چسپی کم نہیں ہوگی۔ مثلاً نئے زمانے کا فیصل آباد اور بیتے دنوں کا لائل پُور۔
فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کئی برسوں ہی سے اصغر ندیم سیّد اور شیبا بھابھی کےحُسنِ انتظام اور کمالِ اہتمام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمیں متعدد بار اس شان دار فیسٹیول کے مشاعرے کی نظامت کا اعزاز حاصل ہوچُکا ہے۔ کچھ سال قبل ہمیں شاہ جی کا فون آیا۔ اپنے دِل رُبا سرائیکی مِلے اردُو کھرج میں فرمانے لگے۔ ’’تُم نے ہر حال میں نظامت کے لیے پہنچنا ہے۔ سامعین فیصل آبادی ہیں سارے۔ ذہنی طور پر تیار ہوکر آنا۔‘‘ ہم لشتم پشتم پہنچے تو واقعی فیصل آباد آرٹس کونسل کا نصرت فتح علی خان آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا تھا۔
مجمع فیصل آبادیوں کا ہو تو اسٹیج سےاُچھالےگئےجُملوں کا جواب بھرپورآتاہے، لیکن اس مُشاعرے میں ہمارے ساتھی کمپئیر بےمثال شاعر و مصور عدنان بیگ بازی لے گئے۔ ہوا کچھ یُوں کہ مشاعرہ جاری تھا، جب فیصل آباد کا ایک مشہور جوڑا مشاعرہ گاہ میں داخل ہوا۔ یہ میاں بیوی ہر مشاعرے میں سر تا پا میچنگ لباس پہن کر آتے ہیں۔ اُن کو دیکھ کر عدنان بیگ بولے۔ ’’خواتین و حضرات! فیصل آباد کے مشہور جُڑواں میاں بیوی تشریف لاتے ہیں۔‘‘
اس پر ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا اور سب سے زیادہ داد خود اصغر ندیم سیّد نے دی۔ اس فیسٹیول کے دولھا، دُلہن اصغر ندیم سیّد اور شیبا بھابھی ہوتے ہیں۔ مقامِ آغاز سے لے کر شامِ اختتام تک ہر جگہ اُن کی بھاگ دوڑ نظر آتی اور سُنائی دیتی ہے۔ اگرچہ بہت شان دار ٹیم بھی موجود ہے، جس میں سارہ حیات، فرزانہ مصدق، نازیہ نوید، توشیبا سرور، مصدق ذوالقرنین، نوید فضل، راؤ منظر حیات، نور الامین مینگل، کومل چوہدری اور دیگر شامل ہیں، لیکن پھر بھی ان دو شخصیات یعنی میاں بیوی کو مجموعی طور پر فیصل آباد آرٹس کونسل کی رُوحِ رواں کہنا بےجا نہ ہوگا۔
عموما یہ میلہ آرٹس کونسل میں سجتا ہےاورسرینا فیصل آباد میں شعراء و ادباء کا قیام ہوتا ہے۔ مُشاعرہ اور دوسرے ادبی سیشنز تو پُرلطف اور علم پرور ہوتے ہی ہیں، لیکن اس میلے کی ایک رُوح جو شاید عوام النّاس سے پوشیدہ ہے، وہ اُس کی شامیں ہیں، جو سرینا کی راہ داریوں یا ہوٹل کے اندر ہی بھاپ اُڑاتی ’’لائل پور کافی شاپ‘‘ میں گزرتی ہیں۔ اصغر ندیم سیّد اُن شاموں میں اپنی محبّت و مہربانی اور مروّت و میزبانی کے عروج پر ہوتے ہیں۔
کبھی ’’نقّاش ہال‘‘ یا ’’نظّارہ ہال‘‘ میں مہمانوں کو چائے پوچھتے نظر آئیں گے، کبھی ’’کہکہشاں ہال‘‘ یا ’’چنیوٹ ہال‘‘ میں اپنے کسی مضمون پر غور فرماتے دکھائی دیں گے۔ کہیں نہ ملیں تو اُنہیں سب کے پسندیدہ ترین ’’بہار کورٹ‘‘ میں ڈھونڈ لیجے۔ سگریٹ کے کش اور دھویں کے مرغولے کے عین درمیان سے شاہ جی طلسمِ ہوش رُبا کی کسی کہانی کے دیو مالائی کردار کی طرح برآمد ہوں گے اور کہیں گے۔ ’’واہ بھئی فارس! تُونے رات مشاعرے میں کمال کردیا، یار!‘‘ ایک بار یونہی ہوا۔
اس سے پہلے کہ ہم آداب بجا لاتے، شاہ جی نے ہمارا کاندھا تھپتھپایا اور اِدھر اُدھر دیکھ کر ہمارے کان میں سرگوشی کی۔ ’’فارس! کام یابی کاواحد نتیجہ عاجزی ہونا چاہیے اور بس۔ جانتے ہو کیوں؟‘‘، ہم نے پوچھا۔ ’’کیوں، شاہ جی ؟‘‘، فرمایا۔ ’’کیوں کہ عاجزی کا نتیجہ مزید کام یابی ہوتی ہے۔‘‘ اس سے پہلے کہ ہم اس خُوب صُورت اور گہرے جُملے کی بھرپور داد دے سکتے، شاہ جی نے کش لگایا اور یہ جا وہ جا۔ عموماً مشاعرے کے بعد سرینا ہی میں رات گئے شعراء کی سبھا جمتی ہے۔
دل چسپ واقعہ ہے کہ ایک بار مشاعرے کی کام یابی کی ترنگ بھی خُوب تھی اور اشیائے خور ونوش کا رنگ بھی خُوب، سو شاہ جی ہمارے سمیت ہر سُو چہچہاتے لہلہاتے پھر رہے تھے۔ وہیں علاقۂ طعام کے آس پاس ایک گائیک طبلہ نواز اور ہارمونیم نواز سمیت خوب سُر بکھیر رہا تھا۔ ہمارے جی میں نہ جانے کیا آئی کہ ہم نے اُس سے مائیک پکڑا اور شاہ جی کے نام کرکے سلیم رضا کا لافانی گیت ’’جانِ بہاراں، رشکِ چمن‘‘ سُنانا شروع کردیا۔
شام کی ہوا بھی رسیلی تھی اور فضا بھی نشیلی، چاند بھی نکلا ہوا تھا۔ یعنی ’’کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا ترا خیال بھی۔‘‘ بنتے بنتے ماحول کچھ ایسا بن گیا کہ تمام شُرکاء ہمارے اِرد گِرد اکٹھے ہوگئے، ہم نے اس توجّہ کی شہ پا کر سلیم رضا سے سُنے تمام سُر اپنے گیت میں لگا دیے۔ گیت کا دوسرا انترا ختم ہوا اور سامعین نے تالیاں پیٹیں تو اُنہی تالیوں میں اچانک شاہ جی نمودار ہوئےاور اپنی خاص الخاص من موہنی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔ ’’فارس! تُوں تے بڑا سُریلا ایں، یار! تُو سول سروس توں ریٹائرمنٹ دے بعد بُھکا نئیں مریں گا۔‘‘ (فارس! تُو تو بڑا سُریلا ہے، یار! تُو سول سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھوکا نہیں مرے گا)۔ چلیے، ایک اور قصّہ بھی سُن ہی لیجے۔
ایک بار اُستادِ محترم، شاعرِ دل نواز اور افسرِ قانون سازڈاکٹر حامد عتیق سرور نے حُکم دیا کہ اُن کے پہلے شعری مجموعے ’’مِرے جن نکل گئے‘‘ کی تقریبِ رُونمائی معروف پبلشر ’’بُک کارنر، جہلم‘‘ کے بہترین دفتر میں ہونا قرار پائی ہے۔ سو، ایک تو اُس کی نظامت سنبھالنی ہے، دُوسرا کمالِ ہُنر و فن یعنی شاہ جی عُرف اصغر ندیم سیّد اور آبروئےغزل، عباس تابش کو بہرِتقریبِ ہٰذا قابو کرنا ہے۔
ہم ان دونوں احباب سے محبّت کا دَم بھی بھرتے ہیں، نیاز مندی کا بھی، سو ہمارا ہر دو سے واحد آپشن ہمیشہ ’’مِنّت ترلے‘‘ کا ہوتا ہے۔ اس بار بھی وہی کام یابی سے کام آیا۔ طَے یہ پایا کہ ہم لاہورسےشاہ جی کو گاڑی میں بٹھال کرجہلم بُک کارنر پہنچیں گے۔
تابش صاحب کو شاید اسلام آباد سے جہلم پہنچنا تھا۔ صاحبو! یقین کیجے کہ وہ سفر دنیائے فلم کی بہترین یونی ورسٹی کی بہترین کلاس سے بھی بہتر تھا۔ ہمیں فلم، ڈراما نگاری، اسکرپٹ، اداکاری، کیمرا، لائٹنگ، صداکاری، ڈائیلاگ، کہانی، پلاٹ، منظر نگاری اور کلائمیکس کے حوالے سے وہ کچھ سیکھنے کو ملا کہ جو بقول مُرشد انور مسعود ’’ست وہیاں بُوٹیاں دا عرق تے نچوڑ اے۔‘‘ ایک بات سے دُوسری اور دوسری سے تیسری نکلتی تھی۔ شاہ جی ترنگ میں تھے اور سکھانے پر آمادہ۔ ہم سیکھنے کے لیے ہمہ تن گوش۔
ویسے آپس کی بات ہے، شاہ جی کے حوالے سے دل چسپ واقعات لکھنے بیٹھوں تو یادوں کی ایک البم کُھل جائے، جس کے ہر ورق پر جہانِ جمالیات آباد ہو۔ پاکستان کے قدیم تاریخی شہر مُلتان میں پیدا ہوئے تو پچھلی صدی نِصف اِدھر نصف اُدھر تھی یعنی14جنوری 1950 ء،جس کا مطلب ہے، موصوف پاکستان سے دو ڈھائی برس چھوٹے ہیں اور پاکستان سے اُنہیں اُتنا ہی شدید بےلوث پیار ہے، جتنا کسی کو اپنے سگے بھائی سے ہوتا ہے۔
ناچیز جب بھی اُن سے ملتا ہے، اُن کی شخصیت کی کوئی تازہ پرت دریافت ہوتی ہے۔ وہ ایک ڈراما نگار، مشہور و معروف ٹیلی وژن سیریلز کے تخلیق کار اور ایک حسّاس شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حیران کُن کہانی کار ہیں۔ ایک بار کسی سفر کے دوران راہ گیروں کو دیکھ کر کہنے لگے۔ ’’یارفارس! کہانیاں ہمارے آس پاس مسلسل شگوفوں کی طرح پھوٹتی ہیں، ہم ہی توجہ نہیں کرتے۔‘‘
ایک زمانہ تھا،جب شاہ جی نے اپنی تخلیقی اُپچ بروئے کار لاکر نہ صرف پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے لیے یادگار تخلیقات کیں بلکہ اپنے وقتوں کے معروف نجی ٹی وی شالیمار ٹیلی وژن نیٹ ورک کے ناظرین کے لیے بھی جہانِ تحیّر کےاَن دیکھے، اَن سُنے دروازے وا کیے۔ علم و ادب سے اُن کا رشتہ گہرا اور دیرینہ رہا۔ مشہور ہے کہ جامعہ پنجاب، لاہور سےاردو زبان میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے دِنوں ہی میں اُن کے اندر کا کہانی گو اُبھر کر سامنے آ چُکا تھا۔
بعد ازاں بہاؤالدین زکریا یونی ورسٹی، ملتان سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، مگر اُن کے دیرینہ رازدان اور مزاج شناس جانتے ہیں کہ اصغر ندیم سیّد کی اصل سند کہانی کہنے پر اُن کی گرفت ہے۔ ہم ڈیفینس میں واقع اُن کے شان دار سجے سجائے گھر میں اکثر حاضر ہوتے رہتے ہیں۔ گھر کیا ہے، شاہ جی کی پُراسرار شخصیت اور اُس شخصیت سے پھوٹنے والی کہانیوں کی آماج گاہ ہے۔ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر خاموشی سے شاہ جی کی باتیں سُننے لگیں تو صدیاں بیت جائیں اور وقت کا احساس تک نہ ہو۔ شیبا بھابھی کے بارے میں بہت محبت سے فرماتے ہیں کہ ’’اُنہوں نے ہی مجھے سنبھال رکھا ہے، کیوں کہ یہ میرے روز و شب کے ڈسپلن میں خلل نہیں آنے دیتیں۔‘‘
ڈسپلن سے یاد آیا کہ کراچی میں منتظمِ عالی اور یارِ دل پذیر احمد شاہ بھرپور ڈسپلن بھرا شان دار مُلکی و بین الاقوامی ادبی میلہ سجاتے ہیں، تو خوب محفلیں جمتی ہیں۔ پچھلے ہی برس بیچ لگژری ہوٹل میں ایک صُبح ساڑھے چھے سات بجے ہماری آنکھ کُھل گئی۔ ناشتاگاہ پہنچےتو تمام ادیبوں، شاعروں میں سے صرف شاہ جی اور شیبا بھابھی کو موجود پایا۔ دونوں مزے سے ناشتا کررہے تھے۔ ہم اجازت طلب کرکے وہیں بیٹھ گئے۔ حیرت یہ تھی کہ شامِ گزشتہ کی محفلِ سرُور اور شب بےداری تا نصف شب کے بعد بھی شاہ جی اس قدر ہشاش بشاش، چاق چوبند اور کِھلےکِھلے لگ رہےتھے۔
ہم نے راز پوچھا تو ہولے سے مسکرائے۔ پھر فرمایا۔ ’’فارس! خوش رہا کرو۔ خوشی ہی صحت ہے اور صحت ہی خوشی۔‘‘ آج اِس شخصی خاکے کے ذریعے ناچیز کو اعتراف کرنے دیجے کہ شاہ جی کے جُملے چُپکے چُپکے کہیں سنبھال لینا میری عادت رہی ہے۔ اُن کی نصیحت میں الفاظ بہت کم مگر دانش بےپناہ ہوتی ہے۔ ایک بار لاہور میں این سی اے کے مشاعرے کے بعد ہم نے دیکھا کہ فلم، ڈرامے کے طلباء و طالبات نے شاہ جی کو یُوں گھیر رکھا تھا، جیسےشہد کی مکھیاں گلاب کے پھول کو گھیر لیتی ہیں۔
اُن متجسّس بچّوں کے سوالات تو جو بھی تھے، کہانی کہنے اور اُسے اسکرین پر منتقل کرنے کے حوالے سے شاہ جی کا ہر جواب گویا چیزے دیگر است۔ چیزے دیگر سے ایک اور دل چسپ بات یاد آگئی۔ کسی مشاعرے سے واپسی پر ہمیں شاہ جی کے ہم راہ سفر کا موقع ملا، تو ہم نے موقع غنیمت جانا اور عہدِ حاضر میں فلم کی سب سے مُستند شخصیت سے دل میں کئی برس سے کُلبلاتا سوال کر ڈالا۔ عرض کیا کہ ’’دُنیا بھر کے ادب میں کسی بھی عظیم آفاقی ناول کو اُسی درجے کی عظیم آفاقی فلم میں نہیں ڈھالا جاسکا۔
چاہے’’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘‘ ہو یا ’’پرائیڈ اینڈ پریجیڈس‘‘، ’’اُداس نسلیں‘‘ ہو یا ’’آگ کا دریا‘‘، ٹالسٹائی، دوستوفسکی، جین آسٹن، ایملی برانٹے، چارلس ڈکنس، عبداللہ حُسَین اور قراۃ العین حیدر کے عظیم شاہ کار کیا اس لیے فلم میں نہیں ڈھالے جاسکتے کہ ناول پڑھتے ہوئے انسانی دماغ کا معجزہ یعنی Theater of the mind جیسی تخلیاتی کرشماتی دُنیا بسا لیتا ہے، وہ بڑے سے بڑے، منہگے سے منہگے ہالی وُڈ اسٹوڈیو میں بھی نہیں بن سکتی؟
کیا ناول کو فلم بنانا قاری کوحسِ بصری کے ذریعے پابند اور محدود کردینے کے مترادف ہے؟‘‘ جواب میں شاہ جی نے ’’تھیٹر آف دی مائنڈ‘‘ کی عظمت کے ساتھ ساتھ جو نُکتہ سمجھایا وہ اُنہی کی باریک نگاہی کا خاصّہ ہے۔ فرمانے لگے۔ ’’بڑا فِکشن/ ناول ہمیشہ باطنی یا داخلی ہوتا ہے، اُس میں انسانی اندرونے کے کیفیات، احساسات، جذبات اور خیالات ہوتے ہیں، جب کہ فلم کی اسکرین خارجی، ظاہری اور بیرونی واقعات مانگتی ہے، جن میں رفتار ہو، سنسنی ہو، تیزی ہو۔‘‘ مجھے یاد پڑتا ہے، شاہ جی کا مقبول ڈراما ’’چاند گرہن‘‘ جن دِنوں نشر ہورہا تھا، تب ’’وارث‘‘ ہی کی طرح لوگ سرِشام کھانا بُھگتا کے، کام نمٹا کے ٹیلی ویژن اسکرین کے آگے بیٹھ جاتے تھے۔
یہ ڈراما بلاشُبہ اُن اعلیٰ ترین ڈراموں میں شمار ہوتا ہے، جنہوں نے شالیمار ٹیلی وژن نیٹ ورک پر بےمثال کام یابی حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’نجات‘‘ اور ’’ہوائیں‘‘ جیسے شاہ کار پی ٹی وی کے سنہرے دور کی اَن مِٹ یادگاریں ہیں۔ ان کی ایک اور تخلیق ’’غلام گردش‘‘ کو معروف ہدایت کار نصرت ٹھاکر نے ہدایت کاری کے ہنر سے مزیّن کیا۔
شاہ جی کے فن کو جو اعزازات ملے، وہ یقیناً اُن اعزازات کے لیے اعزاز ہیں۔ 1989ء میں ڈراما ’’پیاس‘‘کے لیے بہترین مصنف،1998 ء کے نویں پی ٹی وی ایوارڈ میں بہترین مصنف، 2006 ء میں صدرِ پاکستان کی جانب سے ’’تمغۂ حُسنِ کارکردگی‘‘ اور لاتعداد دیگر اعزازات اُن کے نام کے ساتھ منسلک ہیں۔ شاہ جی ایک پُرگو تخلیق کار ہیں، جس کا ثبوت ان کی متنوّع اور متعدد ادبی تخلیقات ہیں۔
اردو نظموں کا مجموعہ ’’طرزِ احساس‘‘ (1988ء)، غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ’’آدھے چاند کی رات‘‘ (1993ء)، ان کے اولین کاموں سے منتخب شدہ نظموں کا ایک حسین انتخاب ’’ادھوری کلیات‘‘ (2014ء)،مختصر افسانے ’’کہانی مجھے ملی‘‘ (2017ء)، ’’سید وقار عظیم: شخصیت اور فن‘‘ (2017ء)، خاکوں پر مشتمل مجموعہ ’’پِھرتا ہے فلک برسوں‘‘ (2022ء)، لاہور کے پرانے محلوں کی خوشبو بھری کتاب ’’جہاں آباد کی گلیاں‘‘(2023ء) اُن کی لاجواب ادبی تخلیقات ہیں اور بے شمار ڈراموں کے اسکرپٹس بھی کتابی شکل میں سامنے آچکے ہیں۔
آج کل کے بچّے، خاص طور پر نسلِ نَو کے تازہ ترین نمائندگان جنہیں Gen-Z کہا جاتا ہے، کہانی کہنے اور کہانی سُننے کو وقت کا زیاں گردانتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی بجائے وہ اے آئی سے گپ شپ کرلیں، اپنے اپنے آئی پیڈ کو سینے سے لگا کر وقت بِتا لیں یا اپنے موبائل فون کی زنجیر سے بندھے رہیں۔ لیکن ایسے تمام بچّوں سے ہماری گزارش ہے کہ ایک بار، محض ایک بار، ہمارے کہنے پر یا تو شاہ جی کا کوئی بھی ڈراما دیکھ لیں اور رسائی ہو تو اُس حیرت کدے کے پاس آن بیٹھیں کہ جس کا نام اصغر ندیم سیّد ہے۔
آپ یقین کیجے آپ اے آئی، موبائل فون، آئی پیڈ اور ایسی دیگر تمام چیزوں کو بھول کر اُس دشتِ تحیّر میں کھوجائیں گے کہ جس کے ہر سُو لاکھوں اَن دیکھے درخت، ہر درخت پر لاکھوں شاخیں، ہر شاخ پر لاکھوں حیران کُن رنگ اور ہر رنگ میں ایک کہانی ہے۔ ان کہانیوں میں سے کسی ایک کا ہاتھ تھام لیجے، وہ آپ کو چُپکے چُپکے، ہولے ہولے، دھیرے دھیرے ادب کے اُس ماہِ تمام کی طرف لے جائے گی کہ جسے دُنیا اصغر ندیم سیّد اور ہم ’’شاہ جی‘‘ کے محبّت بھرے نام سے جانتے مانتے، پہچانتے ہیں۔
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)