کراچی ( اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کے اقتصادی منظر نامے کو بدل دیا ہے ، یہ صنعت کاری، انفرااسٹرکچر کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کی فراہمی کے لئے نئے مواقع کھولتا رہے گا۔وہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر موہٹا پیلس میں ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کا انعقاد شاندار اور پُرگرم جوشی کے ساتھ کیا گیا جس میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دونوں ممالک کے درمیان ہر موسم میں پائیدار اسٹرٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی میزبانی میں منعقدہ تقریب میں سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، کاروباری رہنماؤں، چینی سرمایہ کاروں، مسلح افواج کے ارکان، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بینکنگ و صنعتی شعبوں کے ارکان کو ایک جگہ اکٹھا کیا گیا تاکہ اس لازوال دوستی کا جشن منایا جا سکے ،جسے رہنماؤں نے باہمی اعتماد، اسٹرٹیجک تعاون اور مشترکہ خوشحالی سے جڑی دوستی قرار دیا۔ پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے خصوصی طور پر اس جشن میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان-چین دوستی علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور سٹرٹیجک استحکام کی علامت بن چکی ہے۔ پاکستان اور چین آئرن برادرز (مضبوط بھائی) ہیں جن کی دوستی وقت کے ہر امتحان پر پوری اتری ہے۔ پیپلز پارٹی نے چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہمیشہ تاریخی کردار ادا کیا ہے اور ہم اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لئے پرعزم ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دور اندیش سفارت کاری اور اسٹرٹیجک بصیرت کے ذریعے جدید پاک-چین تعلقات کی بنیاد رکھی۔ اسی کے ساتھ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری نے اقتصادی ترقی اور علاقائی روابط میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کے اقتصادی منظر نامے کو بدل دیا ہے اور یہ صنعت کاری، انفرااسٹرکچر کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کی فراہمی کے لئے نئے مواقع کھولتا رہے گا۔ سی پیک 2.0 صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز، اختراع اور علاقائی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا،سندھ، بالخصوص کراچی، مستقبل کے پاک-چین اقتصادی تعاون میں مرکزی حیثیت برقرار رکھے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات جدید بین الاقوامی تعلقات میں سب سے مضبوط اور قابل اعتماد شراکت داریوں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔ چینی ادارے پہلے ہی سندھ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، اور ہم ٹرانسپورٹ، صنعت کاری، بندرگاہوں، زراعت، ٹیکنالوجی اور صاف توانائی میں زیادہ تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ تقریب کے دوران چلائے گئے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں، پاکستان میں تعینات چینی سفیر نے پاکستان اور چین کو ”ہر موسم کے اسٹرٹیجک تعاون کار شراکت دار“ قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ 75 برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوستی ایک ”آئرن برادرہڈ“ (لوہے جیسی مضبوط بھائی چارے) میں تبدیل ہو چکی ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری لایا ہے اور لاکھوں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے ہیں، سی پیک 2.0 کے تحت اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے نئے صنعتی زونز اور فیکٹریاں قائم کی جائیں گی۔اسلام آباد میں چینی سفارت خانہ اور کراچی میں چینی قونصلیٹ جنرل دونوں ممالک کے مقامی اداروں، کاروباروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے سندھ کے ساتھ قریبی روابط جاری رکھیں گے۔ موہٹا پیلس میں ہونے والے عشائیے کو پاک-چین دوستی کی ایک تاریخی علامت قرار دیتے ہوئے، سفیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دوطرفہ تعلقات مضبوط تر ہوتے رہیں گے اور ترقی و خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔