کراچی( سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے مالی سال 2024-25 کے لیے جامعات کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (او آر آئی سی) کی سالانہ جانچ رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق ملک بھر کی 95 جامعات کے او آر آئی سیز کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں جامعات کو کارکردگی کی بنیاد پر چار درجات یعنی ڈبلیو، ایکس، وائی درجہ بندی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 7 جامعات نے اعلیٰ ترین درجہ ’’ڈبلیو‘‘ حاصل کی، 38 جامعات ’’ایکس‘‘، 43 ’’وائی‘‘ جبکہ 7 جامعات کو ’’انڈر پرفارمنگ‘‘ قرار دیا گیا۔ ایچ ای سی کے مطابق 17 جامعات نے گزشتہ برس کے مقابلے میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی جبکہ 4 جامعات کی درجہ بندی تنزلی کا شکار ہوئی۔ اعلیٰ ترین درجہ ’’ڈبلیو‘‘ حاصل کرنے والی جامعات میں ایئر یونیورسٹی اسلام آباد، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی، سکھر انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، دی یونیورسٹی آف لاہور، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور ضیاءالدین یونیورسٹی کراچی شامل ہیں ان جامعات نے 80 یا اس سے زائد اسکور حاصل کیا۔ “ایکس‘‘ درجہ بندی میں آغا خان یونیورسٹی کراچی، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی، اقراء یونیورسٹی، جامعہ قائداعظم اسلام آباد، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز)، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو، بحریہ یونیورسٹی، کامسیٹس یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس منجمنٹ، شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ سائنس و ٹیکنالوجی کراچی، ٹنڈو جام زرعی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سرگودھا اور دیگر جامعات شامل ہیں، “وائی‘‘ درجہ میں جامعہ کراچی، جامعہ پنجاب لاہور، سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کراچی، جناح یونیورسٹی فار ویمن کراچی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، جامعہ پشاور اور متعدد دیگر جامعات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق باچا خان یونیورسٹی چارسدہ، گرین وچ یونیورسٹی کراچی، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد اور یونیورسٹی آف سوات کو ’’انڈر پرفارمنگ‘‘ قرار دیا گیا۔ ایچ ای سی کے مطابق او آر آئی سی کی درجہ بندی کی بنیاد پر جامعات کو تحقیقی منصوبوں پر مالی اوورہیڈ بھی دیا جائے گا۔ ’’ڈبلیو‘‘ کیٹیگری والی جامعات کو 15 فیصد، ’’ایکس‘‘ کو 10 فیصد، ’’وائی‘‘ کو 5 فیصد جبکہ انڈر پرفارمنگ جامعات کو کوئی اوورہیڈ نہیں ملے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں تحقیقی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں 9ہزار 987تحقیقی تجاویز جمع کرائی گئیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 2 ہزار 237 تھی، تاہم منظور ہونے والے منصوبوں کی شرح کم ہوکر تقریباً 12.5فیصد رہ گئی۔ ایچ ای سی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 68.42فیصد جامعات میں فل ٹائم او آر آئی سی سربراہ موجود ہیں جبکہ ریسرچ مینیجرز اور انوویشن و کمرشلائزیشن مینیجرز کی دستیابی 85فیصد سے زائد رہی۔ رپورٹ کے مطابق کئی جامعات میں مستقل قیادت کے فقدان سے تحقیقی حکمت عملی متاثر ہورہی ہے۔