• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توحید، ختم نبوتﷺ اور قرآن پر ایمان بنیادی عقیدہ، پرنس رحیم آغا خان، لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی زور

اسلام آباد (ایم وقار بھٹی) اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان(آغاخا ن پنجم)نے پاکستان میں اسماعیلی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ "صراطِ مستقیم" پر ثابت قدم رہے، اتحاد اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دے، زندگی بھر تعلیم حاصل کرے اور کاروباری و پیشہ ورانہ زندگی میں اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمارا ایمان دین کے بنیادی عقائد توحید، حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت اور قرآنِ مجید کو اللہ تعالیٰ کی آخری وحی ماننے پر مبنی ہیں۔ گلگت بلتستان کے دورے کے دوران پاسو، پھر پرواک اور گاہکوچ میں اسماعیلی برادری کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے آغا خان پنجم نے بار بار تعلیم، بھائی چارے، سماجی ہم آہنگی، ہمدردی اور اجتماعی ترقی کی اہمیت پر زور دیا اور برادری کے افراد پر زور دیا کہ وہ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔ اجتماعات میں موجود برادری کے نمائندوں اور شرکاء کے مطابق انہوں نے کہا، "ہمارے دین کا بنیادی عقیدہ توحید، ہمارے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت اور اللہ تعالیٰ کی آخری وحی قرآنِ مجید پر ایمان ہے۔" انہوں نے اسماعیلی برادری کے افراد پر زور دیا کہ وہ نیکی کے راستے پر ثابت قدم رہیں اور امن، برداشت، اخلاقی رویے اور ذمہ دار شہری ہونے کے ذریعے انسانیت کی خدمت جاری رکھیں۔اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا نے تعلیم، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم، پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ سیکھنے کا عمل صرف رسمی تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پوری زندگی جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کو جدید مہارتیں حاصل کرنے اور تیزی سے بدلتی دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا، "تعلیم کا عمل زندگی بھر جاری رہنا چاہیے،" اور مزید کہا کہ جماعت کو توجہ کے ساتھ محنت کرنی چاہیے اور مستقبل سے ہم آہنگ مہارتیں پیدا کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ اسماعیلی برادری متحد اور پُرامن رہے اور ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ دیگر برادریوں کی بھی مدد جاری رکھے تاکہ خاندانوں، علاقوں اور ملک کی اجتماعی ترقی ممکن ہو سکے۔برادری کے افراد کو کاروبار، ملازمتوں اور پیشہ ورانہ معاملات میں اعلیٰ اخلاقی اصول اپنانے کی بھی ہدایت کی گئی، جو دیانتداری، امانت اور سماجی ذمہ داری جیسی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔ مبصرین اور برادری کے رہنماؤں نے ان خطابات کو ایسے وقت میں اتحاد، بھائی چارے، تعلیم، پُرامن بقائے باہمی اور قومی ترقی کا مضبوط پیغام قرار دیا جب پاکستان سماجی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔آغا خان نے پاکستان حکومت کی جانب سے اپنے جاری سات روزہ سرکاری دورے کے دوران دی جانے والی پرتپاک میزبانی اور خیرمقدم پر شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان میں کے سماجی ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کے لیے حکومت کی مسلسل حمایت کو سراہا۔انہوں نے گلگت بلتستان کی مقامی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے برادری کے دوروں کے دوران معاونت، تعاون اور انتظامات فراہم کیے۔ 20مئی کو اسلام آباد پہنچے۔ فروری 2025میں اپنے والد کے انتقال کے بعد عالمی اسماعیلی مسلم برادری کے 50 ویں موروثی امام کی حیثیت سے قیادت سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اسلام آباد آمد پر ان کا استقبال اور خاتونِ اول نے کیا۔ ایوانِ صدر میں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جہاں بعد ازاں صدر زرداری نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا، جس میں وزیر اعظم ، نائب وزیر اعظم ، اعلیٰ سول و عسکری قیادت، ارکانِ پارلیمنٹ اور سفارتکاروں نے شرکت کی۔ دورے کے دوران انہوں نے پاکستانی حکام اور گلگت بلتستان و چترال میں اسماعیلی برادری کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان کی آمد پر گلگت ایئرپورٹ پر گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید