• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، ازسرنو نیلامی کے ذریعے ہائیڈرنٹس کے ٹھیکے جاری کرنے کا حکم

کراچی (محمد منصف) سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس محمد حسن اکبر پر مشتمل دو رکنی آئینی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر نیلامی ہائیڈرنٹس کا عبوری نظام غیر معینہ مدت تک نہیں چلایا جا سکتا، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن دو ماہ میں شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے درخواست گزار سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مساوی مواقع فراہم کر کے شہر کے تمام ہائیڈرنٹس کی از سر نو نیلامی کے ذریعے ٹھیکے جاری کرے۔ تفصیلات کے مطابق سماعت کے موقع پر دو رکنی بنچ کو واٹر کارپوریشن نے آگاہ کیا کہ تمام ہائیڈرنٹس کی نیلامی کا معاملہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سامنے زیر التواء ہے جہاں قانونی اور تیکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور یقین دہانی کرواتے ہوئے مزید کہا کہ انتظامیہ کی نگرانی میں چلنے والے چھ ہائیڈرنٹس کی بہت جلد نیلامی کر دی جائے گی۔ عدالت عالیہ نے آبزرویشن میں کہا ہے کہ بغیر نیلامی واٹر ہائیڈرنٹس کا عبوری نظام غیر معینہ مدت تک نہیں چل سکتا۔ درخواست گزار ایس ایس ایس کارپوریشن کے شراکت دار جواد احمد نے ملک نعیم اقبال ایڈووکیٹ کے توسط سے سیکریٹری بلدیات ، چیف ایگزیکٹو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ، ایم ایس طارق اینڈ برادرز ، غلام نبی واٹر کنٹریکٹر، ایچ ٹو او انٹر پرائزز، قاسم اینڈ برادرز ،شاہ محمد جے وی شاہ بلڈرز اور قاضی اینڈ کو جے وی والازن اینڈ کارپوریشن کو فریق بناتے موقف اختیار کیا کہ کراچی میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ہائیڈرنٹس کی نیلامی میں گزشتہ 15 سالوں سے بے ضابطگیاں، بدعنوانی ، مخصوص اور من پسند ٹھیکیداروں کو غیر قانونی طور پر ٹھیکے دیئے جا رہے ہیں ، پچھلے ایک عرصہ سے نیپا ہائیڈرنٹ کا غلام نبی واٹر کنٹریکٹر کو ٹھیکہ دیا جا رہا ہے، صفورا ہائیڈرنٹ طویل عرصہ سے ایچ ٹو او انٹرپرائزز کے پاس ہی ہے، سخی حسن ہائیڈرنٹ قاسم اینڈ برادرز کو ہی نوازا ہوا ہے جبکہ لانڈھی فیوچر کالونی ہائیڈرنٹ گزشتہ 15 سال سے ایم ایس طارق اینڈ برادرز نے سنبھال رکھا ہے۔ گزشتہ 15 سال سے انہی ٹھیکیداروں کو ہائیڈرنٹس کے ٹھیکوں سے نوازا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید