اسلام آباد (عاصم جاوید)فارچون ایمپائر کیس، اشرف ڈھیڈی کےتعمیراتی منصوبے ؛6 ارب روپے کے اثاثے ، پراجیکٹ کا جنرل پاور آف اٹارنی (GPA) چیئرمین نیب یا ان کے نامزد افسران کے نام منتقل کر دیا گیا ،ملزمان کے بیانات قلمبند، سرنڈر آفر ،سیٹلمنٹ پلان چیئرمین نیب نے منظور کر لیا جس کی ا حتساب عدالت نے بھی منظوری دیدی، 6ماہ میں تعمیراتی پیشرفت لازمی ہو گی ، ناکامی پر نیلامی کا مکمل اختیار نیب کے پاس ہو گا ۔ نیب اسلام آباد/راولپنڈی میں زیرِ تفتیش MAK ڈھیڈی وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف فارچون ایمپائر اور فارچون ریزیڈنسی منصوبوں کےمبینہ دھوکہ دہی کیس میں اہم پیش رفت ۔ ذرائع کے مطابق معروف بزنس مین اشرف کریم ڈھیڈی سے منسلک تقریباً 12 سال پرانے تعمیراتی منصوبے میں ملزمان کی جانب سے تقریباً 6 ارب روپے مالیت کے اثاثوں پر مشتمل "فل اینڈ فائنل سیٹلمنٹ آفر" نیب کو پیش کی گئی ،جسے چیئرمین نیب نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں معاملہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزمان اپنے وکلاء سمیت عدالت کے روبرو پیش ہوئے، ان کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ احتساب عدالت نے بھی سرنڈر آفر اور سیٹلمنٹ اتھارٹی کو قانونی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش انوسٹی گیشن آفیسر مریم منان نے کی جبکہ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر لاریب سلیم بٹ نے عدالت میں پیروی کی۔ یاد رہے کہ یہ کیس گزشتہ تقریباً 12 برس سے زیرِ تنازع تھا، جب فارچون ایمپائر اور فارچون ریزیڈنسی منصوبوں میں شہریوں سے سرمایہ کاری حاصل کی گئی تاہم بعد ازاں تعمیراتی سرگرمیاں رک گئیں۔ متاثرین نے 2022 میں نیب اسلام آباد/راولپنڈی سے رجوع کیا جہاں 320 سے زائد شکایات موصول ہوئیں اور مجموعی کلیمز ایک ارب 80 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے۔ نیب کی تفتیشی ٹیم نے گزشتہ چار ماہ کے دوران مسلسل قانونی اور مالیاتی کاوشوں کے ذریعے اثاثوں کا سراغ لگایا، جائیدادوں کی تفصیلات مرتب کیں اور بالآخر ملزمان کو سیٹلمنٹ پر آمادہ کیا، جسے ذرائع ایک بڑی پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔