کراچی (جنگ نیوز) امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں 11جون سے شیڈول تاریخ کا سب سے بڑا فیفا ورلڈ کپ 2026 آغاز سے قبل ہی نئی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں شامل کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے چھ ہفتوں کے دوران ریکارڈ 104میچ کھیلے جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق اتنے زیادہ میچوں سے ٹورنامنٹ کی سنسنی اور گروپ آف ڈیتھ کا روایتی خطرہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ اب تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائیں گی۔ دوسری جانب فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس فارمیٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے فٹبال واقعی عالمی کھیل بنے گا اور ان چھوٹے ممالک کو آگے آنے کا موقع ملے گا ۔ اس بار اردن، ازبکستان اور دنیا کے سب سے چھوٹے ملک کیوراساؤ سمیت چار نئے ممالک ڈیبیو کر رہے ہیں۔ تاہم، فٹبالرز ایسوسی ایشن کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ کھلاڑیوں پر میچوں کا حد سے زیادہ بوجھ ان کی کارکردگی اور صحت کو شدید متاثر کرے گا۔