کراچی (اسٹاف رپورٹر) راولپنڈی ون ڈے میں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ جیتنے والے عرفات منہاس نے کہا ہے کہ پنڈی میں گرمی کافی تھی، اور پچ ڈرائی ہونے کی وجہ سے اسپنرز کو مدد ملی۔ کنڈیشنز اسپنرز کیلئے سازگار تھیں، اسی لیے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ میرے والدین نے بہت سپورٹ کیا، اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے میرے کیریئر میں میری بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ڈیبیو پر دباؤ ضرور ہوتا ہے، لیکن مجھے بالکل بھی پریشر محسوس نہیں ہوا۔ انڈر19 ہو یا پی ایس ایل، میں نے کرکٹ کی ہر سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے۔ میں کسی کا متبادل نہیں بننا چاہتا، اپنی الگ شناخت قائم کرنا چاہتا ہوں میں ٹیم کا مستقل رکن بننے کی خواہش رکھتا ہوں۔ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں اتوار کو راولپنڈی سے اپنی اگلی منزل لاہور پہنچ گئیں۔ جہاں منگل کو دوسرا ون ڈے انٹر نیشنل میچ کھیلا جائے گا۔ پیر کو دونوں ٹیمیں قذافی اسٹیڈیم میں ٹریننگ سیشن کریں گی۔ لاہور میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے آرام کیا ۔ پاکستان کو تین ون ڈے میچز کے سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ قذافی اسٹیڈیم میں بھی سیریز کے حوالےسے تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں پاکستانی اسپنر عرفات منہاس اپنے ڈیبیو میچ میں 5 وکٹیں لے کر پلیئر آف دی میچ ہی قرار پائے۔ وہ ڈیبیو میچ میں پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بھی بنے۔ عرفات منہاس نے پانچ وکٹوں کے ساتھ 18 رنز کی نا قابل شکست اننگ بھی کھیلی۔ ان کی اس لاجواب کارکردگی پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ عرفات منہاس نے مین آف دی میچ کا ایوارڈ اپنے فیملی کے نام کیا اور میچ کے بعد انہوں نے والد اور گھر والوں سے ملاقات میں اپنی مین آف دی میچ ٹرافی والد کو دی۔ عرفات منہاس نے کہا کہ پہلے میچ میں دباؤ ضرور ہوتا ہے، لیکن پی ایس ایل سے اعتماد ملا۔ والد کا خواب تھا کہ وہ مجھے پاکستان کے لیے کھیلتا دیکھیں۔ آج انہیں یقیناً مجھ پر فخر ہوگا۔