کراچی( نصر اقبال،اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسپورٹس بورڈ نے عالمی تنظیم سے الحاق شدہ کھیلوں کی فیڈریشن کو ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے اسلام آباد میں ڈی جی پی ایس بی اور سکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی کی صدارت میںملک بھر کی قومی اسپورٹس فیڈریشنز کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میںکھیلوں کے فروغ، گراس روٹ ڈویلپمنٹ، مالی خود کفالت، قومی اسپورٹس پالیسی، بین الاقوامی مقابلوں میںشرکت کے طریقۂ کار اور آئندہ قومی اسپورٹس فیسٹیول سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا،جلاس میں فیڈریشنز کو سہولتوں کی فراہمی، صوبائی محکموں کی شمولیت، اور نوجوان ٹیلنٹ کی بہتر شناخت و تربیت کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر بھی اتفاق کیا گیا، محی الدین احمد وانی نے کہا کہ کھیلوں کو صرف میڈلز اور مقابلوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ یہ جسمانی فٹنس، صحت مند طرزِ زندگی، نظم و ضبط، نوجوانوں کی شمولیت، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کا بھی مؤثر ذریعہ ہیں۔اجلاس میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کھیلوں کے صوبائی دائرہ کار، صوبوں کے موجودہ انفراسٹرکچر کے مؤثر استعمال، اسکول لیول پر کھیلوں کی بحالی اور گراس روٹ سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاقی وسائل محدود ہیں، اس لیے فیڈریشنز اسپانسرشپ، پارٹنرشپ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی مالی بنیاد مضبوط بنائیں۔ سہولتوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کے لیے این او سی کا طریقہ کار آسان بنا دیا گیا ہے، فیڈریشنز کے الحاق کے معیار میں نرمی کی گئی ہے، جبکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نیشنل فیڈریشنز کو تربیت اور مقابلوں کے لیے اپنی سہولیات مفت فراہم کرے گا، ایف آئی اے کو خط لکھا جائے گا کہ کھلاڑیوں کو صرف این او سی نہ ہونے کی بنیاد پر سفر سے نہ روکا جائے، البتہ سفر کرنے والی ٹیموں کی تفصیلات پاکستان اسپورٹس بورڈ کو فراہم کی جائیں۔ اسی طرح کیمپ کے ٹرینیز کا ڈیلی الاؤنس ٹیم منیجرز کے ذریعے جاری ہوگا اور اس کی رسیدیں لازمی جمع کرانی ہوں گی۔مزید فیصلوں کے تحت پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن سے اسلام آباد کے لیے خریدی گئی سائیکلوں کے جامع استعمال کا پلان طلب کیا گیا، جبکہ صوبائی اسپورٹس بورڈز کو قومی اور ڈیپارٹمنٹل مقابلوں میں اپنی ٹیموں کے سفر، قیام و طعام کے اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ کے ساتھ مل کر ایتھلیٹس کے لیے آگاہی سیشنز کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔