اسلام آباد(تنویر ہاشمی)وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے مئی میں 994 ارب روپے جمع کیے، جو ماہانہ ہدف کا 97 فیصد ہے۔غیر معمولی اقدامات کی کوئی ضرورت نہیں، بعض میڈیا رپورٹس مسلسل مالی سال 2025-26 کے آغاز میں ایف بی آر کے مقرر کردہ 14,130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر "864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال" کا حوالہ دے رہی ہیں، جو گمراہ کن ہے،پہلے گیارہ ماہ کے دوران ٹیکس وصولیاں 11,257 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔گیارہ ماہ کے ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر نے 99.8 فیصد (عملی طور پر 100 فیصد) ہدف حاصل کرتے ہوئے 11,257 ارب روپے جمع کیے۔ یہ حقائق کسی بھی طرح ریونیو کے انہدام، مالیاتی بحران یا کسی بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔اتنا ہی اہم یہ ہے کہ جون 2026 کا ریونیو ہدف نظرثانی شدہ مالیاتی فریم ورک کی بنیاد پر مقرر کیا گیا نہ کہ اُن پرانے اعداد و شمار پر جن کا حوالہ اب بھی بعض حلقے دے رہے ہیں۔ ایف بی آر نے جون 2025 میں 1,502 ارب روپے جمع کیے تھے۔ جون 2026 کا ہدف 1,727 ارب روپے ہے، جس کے لیے 15 فیصد اضافے کی ضرورت ہے، جو نظرثانی شدہ سالانہ ہدف کے حصول سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔