• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ سازی کے عمل میں عوامی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی، مولانا حسین احمد مدنی

پشاور(آئی این پی )جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی جنرل کونسل کے ممبر مولانا حسین احمد مدنی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ نئے بجٹ میں حکومت کی جانب سے ٹیکسز کی بھرمار کا عندیہ انتہائی تشویشناک ہے اضافی ٹیکسز اور مہنگائی پر مبنی معاشی پالیسیاں پہلے سے مشکلات کا شکار عوام کیلئے مزید پریشانیوں کا سبب بنیں گی انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری بحران سے دوچار عوام مزید معاشی بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے اس لئے حکومت کو بجٹ سازی کے عمل میں عوامی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی جے یوآئی کے راہنما نے کہا کہ ٹیکسز کی بھرمار سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا جس کے اثرات براہ راست غریب اور متوسط طبقے پر پڑیں گے روزمرہ استعمال کی اشیاء، بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی زندگی مزید دشوار ہو جائے گی جبکہ تنخواہ دار طبقہ، مزدور اور چھوٹے کاروباری افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گیانہوں نے کہا کہ حکومت عوام دوست بجٹ تیار کرکے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہو بجٹ کا مقصد عوامی فلاح، روزگار کے مواقع، صنعت و تجارت کی ترقی اور معاشی استحکام ہونا چاہئے نہ کہ نئے مالی بوجھ ڈالنا انہوں نے مطالبہ کیا کہ زراعت، تعلیم، صحت اور چھوٹے کاروباروں کیلئے خصوصی سہولیات اور مراعات کا اعلان کیا جائے تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے مولانا حسین احمد مدنی ایڈوکیٹ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تیار کردہ بجٹ کو قوم پر مسلط کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ بیرونی اداروں کی شرائط پر بننے والی معاشی پالیسیاں قومی خودمختاری اور عوامی مفادات کے منافی ثابت ہوئی ہیں۔
پشاور سے مزید