السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
شادی بیاہ پر نہ کمائیں تو پھر کب؟
یہ آپ رسوم و رواج کے خلاف مضامین شائع نہ کیا کریں۔ اب لوگ شادی بیاہ کے مواقع پر اسراف، فضول خرچی نہیں کریں گے، تو کب کریں گے۔ کسی کے پاس دولت ہے، تو خرچ یا نمائش کرنے میں کیا حرج ہے۔ ہمیں تو ان مواقع پر بینڈ باجوں، ڈھول تاشوں سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ امیروں کے ساتھ کچھ غریب غرباء کا بھی بھلا ہو جاتا ہے۔ جیسے ڈھول، شہنائی والے۔
تو براہِ مہربانی آپ بھی اِن لوگوں کی روزی پر لات نہ ماریں۔ شادی بیاہ کے مواقع پر مخّیر افراد اگر پانی کی طرح پیسا بہا رہے ہیں، خاص طور پر اِن ناچنے، گانے والوں پر دل کھول کے خرچ کررہے ہیں، تو کرنے دیں، آپ کی جیب سے تو نہیں جارہا، اب اگر ان موقعوں پر بھی ہم کچھ نہیں کمائیں گے، تو پھر گزارہ کیسے کریں گے۔ (نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)
ج: ’’ہم کچھ نہیں کمائیں گے…؟‘‘ دوچار بار آپ کا آخری جملہ پڑھا، کیا واقعتاً آپ کا آج کل یہی ذریعۂ معاش ہے۔ اگر ایسا ہے، تو اب ہم مزید کیا ہی کہیں۔
چیتھڑوں پر میگزین
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ محمد ثانی نے ماہِ صیام کو تقویٰ وپرہیز گاری سے مشروط کیا، زبردست مضمون تھا اور پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ منیر احمد خلیلی نے پڑوسی مُلک افغانستان کے متعلق انتہائی تلخ حقائق بیان کیے، ساتھ ہی پاکستان پر اثرات کا بھی ذکر کیا۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر سکندر اقبال نے ماہِ رمضان المبارک کو’’علاجی مہینہ‘‘ قرار دیا۔ ڈاکٹر صاحب آپ کی ٹیم میں ایک بہت ہی اچھا اضافہ ہیں۔
ایک سے ایک موضوع پر شان دار تحریروں کے ساتھ آرہے ہیں۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے عطاء الحق قاسمی کا خاکہ انتہائی دل نشین اندازمیں تحریر کیا۔ پورا مضمون مسکراہٹ کےساتھ پڑھا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے جاپان میں قبل از وقت انتخابات کا احوال پیش کیا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی آخری قسط دل چسپ تھی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں آپ نے خُود آفر دے رکھی ہے کہ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر لکھ بھیجیں اورجب ہم لکھ کے بھیجتے ہیں توآپ کو برداشت نہیں ہوتا۔
ہمارے خطوط کو’’رام کہانیاں‘‘ کہا جاتاہےاورہاں، آپ میرے جن صفحات کو چیتھڑے قرار دے رہی ہیں، وہ 50 روپے والی کاپی کے صفحات ہیں۔ چیتھڑوں پر تو آپ کا میگزین آتا ہے اور وہ بھی بغیر پِن کے، جس کا ایک ایک صفحہ ہم خُود جوڑتے ہیں۔ خیر، اگلے شمارے میں ثانی صاحب نے ذخیرہ اندوزی پر شان دار مضمون لکھا۔ منیر احمد خلیلی بدترین ابلیسی جال کے تلخ حقائق سے پردہ اُٹھا رہے تھے۔
ڈاکٹر سکندر اقبال کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کی عادات و اطوار اگر پورے سال کے لیے اپنا لی جائیں تو نسلِ نو کی تعمیرِ شخصیت ہو جائے۔ رحمان فارس نے انورمقصود کا خاکہ تحریر کیا۔ عرفان جاوید، مستنصر حسین تارڑ کا افسانہ لائے، پہلی قسط تو کچھ خاص نہیں لگی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم نے سبق آموز افسانہ تحریر کیا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط بھی موجود تھا، بہت شکریہ۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج: لاگ لپیٹ کے بغیر لکھنے کی آفر، جریدے کے مندرجات کے ضمن میں ہے، ذاتی زندگی کے قصّے، کہانیوں کے لیے نہیں۔ او وہ جو بیسیوں بار استدعا کی گئی ہے کہ تحریر مختصر، جامع لکھیں، اُس کا کیا؟ آپ کا یہ خط بھی 7 صفحات پر مشتمل تھا، جسے کاٹ چھانٹ کر چند سطروں میں سمویا گیا اور یہ پریکٹس مدتوں سے جاری ہے۔
جب آپ لوگوں کی 70 فی صد تحریر ایڈیٹنگ ہی کی نذرہونی ہوتی ہے، تو آپ ناحق اتنی انرجی ضائع کیوں کرتے ہیں، اصل مدعا یہ ہے۔ اور آپ یہ 50 روپے والی کاپی کے 4 صفحات ہر بار بچا کیوں نہیں لیتے۔ زیادہ سے زیادہ دو صفحات پر مشتمل تبصرہ لکھیں، جو ٹو دی پوائنٹ ہو۔
مدّتوں سے ایڈیٹنگ کے ذریعے یہی تو سکھایا جارہا ہے، اصل افسوس ہی اس بات پر ہے کہ ہماری باتیں آپ لوگوں کو چُبھتی تو بہت ہیں، پر طرزِعمل میں رتّی بھر تبدیلی نہیں آتی اور چیتھڑوں پر میگزین کی اشاعت کے ضمن میں ہمارا قطعاً کوئی دوش نہیں، جو ہمارا کام ہے، اُس میں ہم اپنا 101 فی صد دے رہے ہیں۔
شالز کافی عجیب معلوم ہوئیں
’’جگ مگ جگ مگ صُبحیں ہیں اور روشن روشن شام، آیا ماہ صیام…‘‘ عبارت کے ساتھ جگمگاتا شمارہ ملا۔ چار سُو فضاؤں، ہواؤں سے ماہِ صیام کی پاکیزگی، خوشبو پھیلتی محسوس ہوئی، جو قلب و ذہن معطّرکرگئی۔ ڈاکٹرثانی کی تحریر ’’ماہِ صیام، تقویٰ و پرہیزگاری، تزکیۂ نفس کا عظیم مظہر‘‘، افشاں نوید کی ’’ماہِ صیام، نئی اُمید، نیا موقع‘‘ اور شائستہ اظہرکی رمضان شریف ہی کے موضوع پر وسطی صفحات کی تحریر دل سے رُوح تک سرشار کرگئی۔
مہمان دوشیزائیں، عبایا و اسکارفس کے ساتھ بہت مقدّس و نورانی سا تاثر دے رہی تھیں۔ پچھلے کئی ہفتوں سے ثانیہ انور کی کوئی تحریر شاملِ اشاعت نہیں، کیا وجہ ہے؟ البتہ صائمہ صمیم کی’’عدم برداشت کے رویے اور ادیب کی ذمّے داری‘‘ لاجواب ٹھہری اور یہی ہماری نظر میں شمارے کی نمبر ون تحریر تھی۔ بلاشبہ جہالت کے اندھیروں میں، علم کے چراغ روشن کرنا، عین جہاد اور پیغمبرانہ روش ہے، دیگر نگارشات میں کرن عباس کرن کی ’’انتظار‘‘ مبین مرزا کی ’’بے دیارم‘‘ اچھی لگیں۔
منور راجپوت، منور مرزا اور منیر خلیلی کی تحاریر معلومات افزا تھیں اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو ہرطرف مسرتیں بکھیر رہا تھا، خاکسار کا نامہ شاملِ اشاعت تھا، جب کہ قرات نقوی اورنرجس مختار بھی پیاری پیاری باتوں کے ساتھ شاملِ محفل تھیں۔ ’’چلغوزے تو اب سونگھنے کو بھی نہیں ملتے‘‘، ’’اگر میں انسان نہ ہوتی تو یقیناً تتلی ہوتی‘‘۔ جیسے جملے پڑھ کر بہت محظوظ ہوئے۔
قرات کا معاملہ تو’’بے دیارم‘‘ کے بابا افتخار سے مطابقت رکھتا ہے کہ وہ کراچی میں بیٹھ کر پرانے ملتان کو دل میں بسائے جی رہے تھے اور قرات ٹیکساس، امریکا میں رہ کرپاکستان اور کراچی کو دل میں بسائے بیٹھی ہیں۔
شائستہ اظہر ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی ڈیوٹی بہترین انداز میں انجام دے رہی ہیں، لیکن اگر ایڈیٹرصاحبہ بھی مہینے میں ایک آدھ بار نظرِکرم فرمادیں، تو کیا ہی بات ہو۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ سلسلہ لاجواب ہے۔ ہر ہفتے ہی کسی نادرِ روزگار شخصیت سے ملاقات ہورہی ہے اور وہ بھی شان داراندازسے۔ اگلا شمارہ دیکھا، غالباً کوئی ماڈل دست یاب نہ تھی تو افراتفری میں دو جوانوں سے کام چلانے کی کوشش کی گئی۔بدلتے موسم کے اعتبار سے موسمِ گرما کے لبادے متعارف کروائے جاتے تو کچھ بات بن بھی جاتی۔
آغاز مارچ، بڑھتی تمازت میں شالز خاصی عجیب معلوم ہوئیں۔ طویل غیرحاضری کے بعد ثانیہ کی آمد ہوئی اور’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کا رائٹ اَپ پڑھنے کو ملا، دلی خوشی ہوئی۔ موضوعِ تحریر ’’تضاد‘‘ تھا، جسے بہترین انداز سے نبھایا گیا۔ منور راجپوت ’’دیبل کہانی‘‘ کے ساتھ آئے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کی تمام تحریریں اچھی تھیں۔ رابعہ فاطمہ اسلامی خلافتوں کی ماحولیاتی پالیسی کا ذکر لائیں۔
حافظ ثانی، منور مرزا، منیر خلیلی، ڈاکٹر سکندر اقبال، رحمان فارس، مستنصر حسین تارڑ کی تحریریں لائقِ مطالعہ تھیں اور پیارا پیارا، ہمارا ’’آپ کاصفحہ‘‘ بھی خُوب جگمگا رہا تھا، بمع ہمارے نامے کے۔ اور ہاں، ڈیڑھ دو ماہ قبل ہمارے نام سے محلہ شریف فارم حذف کیا گیا اور اب کی بار نزد مکی مسجد بھی، اندیشہ ہے کہ اگلی بار راہوالی، گوجرانوالہ ہی نہ ختم کر دیئےجائیں۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: ثانیہ کو دو سے تین ہفتے قبل شوٹ بھیجا گیا، وہ اپنی مصروفیات کے باعث جلد رائٹ اَپ نہ لکھ سکیں اور پھر موسم بھی اچانک ہی تبدیل ہوگیا۔ شوٹ کو سال بھر انتظار کروانے کی بجائے بہتر سمجھا گیا کہ شیڈول کردیا جائے۔
آپ کا نام عمومی طور پر پیچ میکر کی درخواست پرمختصر کیا جاتا ہے کہ ایک تو خط شیطان کی آنت جتنا لمبا ہوتا ہے اور پھر آدھی سطر نام بھی کھا جاتا ہے، جب کہ صفحات کی کمی کے باعث عالم یہ ہے کہ ہماری تو اِک اِک سطر نہایت قیمتی ہے۔
ایک نسل جوان ہوگئی
سنڈے میگزین ہمارا پسندیدہ ترین رسالہ ہے۔ اس کا منفرد اسلوب، دل فریب انداز ہی اِسے قارئین میں حد درجہ مقبول کرتا اور ہر ایک کا پسندیدہ ٹھہراتا ہے۔ یوں ہی تو ایک نسل اس کے ساتھ جوان نہیں ہوئی۔ بلاشبہ جریدہ لائقِ صدستائش ہے۔ تمام تر مضامین انتہائی معلوماتی ہوتے ہیں۔ گویا ہر صفحہ اپنی مثال آپ ہے۔ (شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)
نو دن بعد ملے گا؟
منور مرزا نے ’’حالات و واقعات‘‘ میں مشرقِ وسطیٰ پر بہترین تجزیہ تحریر کیا، واقعتاً پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ اور ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ سلسلے تو میگزین کی جان بن گئے ہیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ذکی طارق بارہ بنکوی کی ’’عظمتِ قرآن‘‘ بہت پسند آئی۔ ناقابلِ اشاعت کی لسٹ بھی پڑھ لی۔
واقعی آپ اس کی تیاری میں خاصی محنت کرتے ہیں۔ ’’پیارا وطن‘‘ میں محمد ریحان نے کالا باغ پر اچھا مضمون تحریر کیا، پڑھ کر معلومات میں خاصا اضافہ ہوا۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں سلیم راجا کی کام یابی کا دَور چل رہا ہے، مبارک ہو جناب۔
’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں امریکا سے قرات نقوی کی ایک ساتھ تین میلز پڑھنے کو مل گئیں، لیکن ’’امریکا کے موسم، تہوار‘‘ کے بعد اُن کی کوئی مزید تحریر منظرِ عام پرنہیں آئی۔ اگلا جریدہ عید تعطیلات کے سبب تین روز پہلے ہی پڑھنے کو مل گیا، اچانک میسر آنے پرایک اَن جانی سی خوشی ہوئی، مگر ساتھ ہی دُکھ بھی کہ اب آئندہ شمارہ نو دن بعد ملےگا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے کشور ناہید کا خاکہ نہایت عُمدگی سے تحریر کیا، پڑھ کر مزہ آگیا۔
کشور ناہید کا کالم تو ہم پابندی سے پڑھتے ہی ہیں۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا ایران جنگ کے ساتھ موجود تھے، تو ’’متفرق‘‘ میں اسرار ایوبی نے کرسٹین امان پور پربہت اچھا مضمون تحریر کیا، زبردست بھئی، اور’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ میں پروفیسر سید منصور علی خان کا پیغام پڑھ کے اُن کی خیریت کی اطلاع بھی مل گئی۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج:جی… اچانک حاصل ہونے والی خوشیوں کی پھر تھوڑی بہت قیمت تو ادا کرنی ہی پڑتی ہے۔
فی امان اللہ
اس ہفتے کی چٹھی
شمارہ موصول ہوا۔ سرِورق سے ایمان کی حرارت، رُوحوں کی طہارت کے ساتھ آگے بڑھے۔ ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی لیلۃ القدر کی روحانی محفل سے خُوب استفادہ کیا۔ دُعاؤں کی قبولیت والی ہزار راتوں سے بہتر رات، جس میں نزولِ قرآنِ کریم ہوا، جو ہر مسلمان کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر صد افسوس، ہم قرآنِ کریم کو اپنی زندگیوں میں پوری طرح نافذ نہ کرسکے، محض ثواب و برکات کے حصول تک محدود کرلیا۔ حافظ محمّد ثانی ہی نے’’اسلاموفوبیا یوم‘‘ کےحوالےسےبھی خصوصی مضمون لکھا۔ بلاشبہ ایک بےمثل کاوش تھی۔
یہ عجب ہی تماشا ہےکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے چند ہزار منفی رویوں کے حامل افراد کے طرزِعمل کو بنیاد بناکر پیغمبرِ اسلام ﷺ اور مسلمانوں کومطعون کرنےکا قبیح فعل جاری و ساری ہے۔ رابعہ فاطمہ قراردادِ پاکستان کی رُوداد لائیں، بہت خوب۔ منور مرزا مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پرلب کُشا تھے۔
بھئی، غیروں کی چھتری تلے یہی انجام ہوتا ہے۔ امریکا، اسرائیل، کا سرپرست ہے، اُس سے اُمید رکھنا کہ وہ اسرائیل سے بچائےگا، سراسر حماقت و نادانی ہے، حالاں کہ اگر سارے عرب ممالک ایران کی طرح جدید اسلحہ سازی کریں تو اسرائیل کا بھرکس نکال سکتے ہیں۔
رحمان فارس ’’نُورِپُرنُور، نور الحسن‘‘ کے اوصاف بیان کررہے تھے، تو عرفان جاوید مستنصر حسین تارڑکی’’پھولوں والی پہاڑی‘‘کی آخری قسط لائے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پرسرسری نگاہ ڈال کرآگے بڑھ گئے۔ ڈاکٹر ریاض علیمی نے سیرتِ نبوی ﷺ پرعمل کی تلقین کی، تو بلقیس متین سحری کا مینو لائیں۔ نظیر فاطمہ کی ’’برداشت‘‘ تو نِرا افسانہ تھی۔ ہزاروں میں چند گھر ہی ایسے ہوں گے، جو اِس معیار پر پورے اُترتے ہوں گے۔ ذکی طارق نے’’عظمتِ قرآن‘‘ کے عنوان سے منظوم ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔
محمّد ریحان کالا باغ کی سیر کو لے گئے۔ اور اپنے صفحے کے چوکھٹے میں حسبِ معمول محمّد سلیم راجا کی گُڈّی (چٹھی)چڑھی ہوئی تھی۔ اگلا شمارہ ملا،ماڈل کی ترچھی نگاہوں کی تاب نہ لا کر صفحہ ہی پلٹ دیا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں عاقل دانش وَر منور مرزا، مشرقِ وسطیٰ کےعدم استحکام کی تاریخ بیان کررہے تھے، جو عثمانیہ سلطنت تک پھیلی ہوئی تھی۔
غیروں کی سازشوں، اپنوں کی غدّاری نے ہمیشہ مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، تاریخ ’’میرجعفروں‘‘ سے بھری پڑی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے، مُسلم حُکم راں صرف اقتدارہی کی فکر میں رہے، ترقی کو ترجیح نہیں دی اور زمانہ قیامت کی چال چل گیا۔ محمّد یعقوب گوہر تھرمل رسیدوں پر لگے کیمیکلز کو بیماریوں کا پروانہ بتارہے تھے، مگر اِن کے بغیر گزارہ بھی نہیں، لہٰذا ہم یہ زہر پیتے ہی رہیں گے۔ رابعہ فاطمہ ڈیجیٹل آلات کے بےدریغ استعمال کے نقصانات سے آگاہ کررہی تھیں۔
ایک زمانہ تھا، جب گھر کے سب افراد مل بیٹھ کر کھانا کھاتے، اپنے خیالات، جذبات و احساسات ایک دوسرے سے شیئر کرتے، مسائل کا حل نکالتے، مگر اب صرف موبائل فون کاساتھ رہ گیا ہے۔ڈاکٹر سکندر اقبال سگ گزیزدگی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کررہے تھے۔ بلدیاتی اداروں کےاربوں روپے فنڈز کا کیا مصرف ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ رحمان فارس حامد علی خان کے گائیک خاندان اورفنِ موسیقی سے آگاہ کر رہے تھے۔ ’’سینٹراسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہرکا شائستہ رائٹ اَپ اشعار کے چٹخاروں سے لب ریز تھا۔ ماڈل پرتبصرے کی ریڈلائن عبور نہیں کرسکتے۔
زبیر یعقوب نے اخلاقی بینکاری کا اسلامی و روایتی بینکاری سے موازنہ پیش کیا، جب کہ اختر سعیدی نئی کتابوں پر حسبِ معمول ماہرانہ تبصرہ لائے۔ اور ہاں، ایک بات پوچھنی تھی،’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ میں پروفیسر سیّد منصور کے پیغام کے ساتھ کیا آپ کی تصویر تھی؟ نیز اگر لفظ ’’تزویراتی‘‘ کا مطلب بتادیں، تو مہربانی ہوگی۔ (شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپورخاص)
ج: جی نہیں، قطعاً ہماری تصویر نہیں تھی، اے آئی جنریٹڈ تھی۔ اور لفظ ’’تزویراتی‘‘ انگریزی لفظ ’’Strategic‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے، جو حکمتِ عملی، طویل مدتی منصوبہ بندی یا جنگی چال کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
گوشہ برقی خطوط
* مَیں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ میری تحریروں کو اپنے موقر جریدے کی زینت بنارہی ہیں۔ یہ امر میرے لیے فخر اور حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ بلاشبہ ایک ادبی نگاہِ انتخاب ہی لکھنے والوں کےشوق و جستجو کو جِلا بخشتی ہے۔ (ثاقب عبداللہ نظامی، لیّہ)
* جریدےکی کسی تحریر کی تعریف وتوصیف کا مطلب ہے، آپ کی اَن تھک محنتوں کی پذیرائی، اور بےشک آپ اِس کی مستحق ہیں۔ اس ہفتے کے شمارے کی لگ بھگ سب ہی تحریریں شان دار تھیں۔ خاص طور پر اختر سعیدی کی قائدِ اعظم کے حوالے سے لکھی نظم کے لاجواب شعری اسلوب کا کیا ہی کہنا۔ میں بھی ایک سوغات (غزل) لے کر حاضرِ خدمت ہوں۔ کسی قریبی اشاعت میں شائع کر کے ممنون فرمائیے۔ (معین فخر معین)
ج:ہر قابلِ اشاعت نگارش باری آنے پر بغیر کہے شاملِ اشاعت کر لی جاتی ہے۔
* حسبِ عادت سنڈے میگزین خریدا اور مکمل پڑھا۔ طیّبہ فاروقی کی تحریر ’’نیویارک اور مسلمان میئر‘‘ کافی معلوماتی معلوم ہوئی۔ منیر احمد خلیلی کا مضمون ’’مراکش، مسلم دنیا کی قدیم باشاہت‘‘ بھی دل چسپی کا حامل رہا۔ حافظ بلال بشیر کی بریل ڈے پر خاص تحریر بھی خاصی معلوماتی تھی۔
امجد سعید کی تحریر میں پڑھا کہ تاریخی شہر کمالیہ کی مُلکی و بین الاقوامی سطح پر پہچان ’’کھدّر‘‘ ہے، زبردست۔ منور مرزا کا یوکرین جنگ سے متعلق تجزیہ، جس نے دنیا کو تقسیم کر دیا،ہمیشہ کی طرح اپنی مثال آپ تھا۔ (محمد فیصل شہزاد،محلہ احمد پورہ، بھکھی روڈ، گلی سیداں، شیخوپورہ)
* مَیں نے ایک آرٹیکل ’’با اختیار بلدیاتی نظام ضروری ہے ‘‘کے عنوان سے آپ کے موقر جریدے میں اشاعت کے لیے بھیجا تھا، براہِ مہربانی آگاہ کردیجیے کہ یہ جریدے میں جگہ پا سکتا ہے یا نہیں۔ (صفیہ نسیم)
ج: ہمارے یہاں ناقابلِ اشاعت تحریروں کی وقتاً فوقتاً باقاعدہ فہرست شایع کی جاتی ہے۔ جریدے کا مطالعہ جاری رکھیں گی، تو تحریر کے اسٹیٹس کا علم ہوجائے گا، انفرادی طور پرکسی بھی تحریر سے متعلق کچھ بتانا ممکن نہیں۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk