چین کے رہ نما، مائوزے تُنگ نے ’’گریٹ لیپ فارورڈ‘‘ مہم کے تحت 1958ء میں حُکم دیا کہ مُلک سے چڑیاں تلف کر دی جائیں۔ اُن کا خیال تھا کہ چڑیاں اناج ’’چوری‘‘ کرلیتی ہیں، حتیٰ کہ زمین میں دبے بیج بھی بعض اوقات نکال کے کھا جاتی ہیں، چناں چہ چڑیاں ختم کرکے اناج بچایا جاسکتا ہے، پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ سُنتے ہیں کہ کسان یہ حُکم پا کر چڑیوں کے درپے ہوگئے۔
گھروں سے برتن اور چھڑیاں لے کر نکلے اور برتن بجا بجا کر چڑیاں اُڑاتے رہے۔ چڑیوں کو دَم لینے کو بھی بیٹھنے نہ دیا جاتا۔ وہ مسلسل اڑتے ہوئے تھک تھک کر گرتیں اور مر جاتیں۔ درختوں پر چڑھ کر چڑیوں کے گھونسلے گرا دیے گئے، ان کے انڈے تلف کیے گئے۔ لکھنے والوں نے لکھا کہ اِس مہم میں دو ارب سے زائد چڑیاں ماری گئیں۔ چین میں چڑیوں کی نسل ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی۔
دو سو کروڑ چڑیاں ماری جا چُکیں تو اناج کی ’’چوری‘‘ بڑھ گئی۔ پتا چلا کہ اصل چور تو کیڑے مکوڑے اور ٹڈی دل ہیں، جو اناج کےدشمن ہیں۔ چڑیاں اِن حشرات الارض کوکھاتی تھیں، جس سے ان کی تعداد کنٹرول میں رہتی تھی اور اناج بڑی حد تک محفوظ رہتا۔
چڑیوں کی عدم موجودگی میں ٹدیوں اور کیڑوں کی تعداد اتنی بڑھی اور 1959ء سے 1961ء تک، پیہم تین برس، چین میں اناج کا ایسا شدید قحط پڑا کہ قریب ڈیڑھ کروڑ لوگ مر گئے۔ آخرکار، چین کو سوویت یونین سے چڑیاں درآمد کرنی پڑیں کہ فطرت کا توازن بحال کیا جاسکے۔
ریل اور بحری جہاز کےانجن سے لے کرکارخانوں کی مشینیں چلانے تک کوئلہ ہم نے اتنا جلایا کہ اوزون کی تہہ کو چھید ڈالا اور اب گلوبل وارمنگ کورورہے ہیں۔ ڈیزل گاڑیوں کے نائٹروجن آکسائیڈ اور پیٹرول گاڑیوں کے کاربن ڈائی آکسائیڈ اگلنے سے انسانوں کا سانس لینا دوبھر ہوتا جا رہا ہے۔ فطرت کے قائم کردہ توازن سے چھیڑچھاڑ کا ایک اور زاویہ دیکھیے۔ چولستان اور تھر کے صحراؤں میں گِدھ (Vultures) بہت کم ہوتے چلے جا رہے تھے، جس کی بنا پر یہاں انسان تو انسان، جانوروں کا رہنا بھی دشوار ہوگیا تھا۔
جوجانورمرتے تھے، اُن کو کھانے والے گِدھ نایاب تھے، سو تعفن اور آلودگی مکینوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے تھی۔ اخبار کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ جانوروں کو لگایا جانے والا ڈیکلران نامی ایک اسٹیرائیڈ انجیکشن ہے، جو چولستان اور تھر کے مکین بغیر ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ کیے دھڑا دھڑ اپنے جانوروں کو لگوا رہے تھے۔
ویسے تو یہ کھانسی اور درد کم کرنے کا ٹیکا ہے، لیکن بعض صُورتوں میں ڈاکٹر اسے اچانک دودھ کم ہوجانے پر بھی تجویز کرتے ہیں۔ اپنے تئیں دودھ بڑھانے کے لیے بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر یہ انجیکشن لگائے جاتے رہے۔ سوڈیم ڈائکلوفینک کی مقدار بڑھنے سے جانور مرنے لگے۔ جب ان کو گِدھ کھاتے تو یہ کیمیکل گِدھوںکا جگر بُری طرح متاثر کر کے انہیں موت سے ہم کنار کرنے لگا۔
یوں صحرا میں گِدھ نایاب ہونے لگے۔ 2005ء میں ایک امریکی ادارے نے اس امر کا نوٹس لیا اور ایک چار رکنی تحقیقاتی بورڈ قائم کر کے پاکستانی اداروں کے ساتھ کام شروع کیا۔ وجوہ سامنے آنے پر سندھ اور پنجاب حکومت نے اپنے اپنے صحراؤں میں انجیکشن پر پابندی لگانے کے ساتھ مرنے والے جانوروں کو گہرے گڑھوں میں دبانے کی ہدایت کی۔
آگاہی مہم چلائی گئی۔ بچے کُھچے گِدھوں کو خوراک کی فراہمی کے لیے سندھ حکومت نے تھرپارکر اور پنجاب حکومت نے بہاول پور میں ’’اینیمل فیڈ ریسٹورنٹ‘‘ قائم کیے، جہاں گِدھوں کے لیے صحت مند گَدھوں (Donkies) کا گوشت بڑی تعداد میں مہیا کیا گیا۔
چند روز پہلےاخبارمیں خبر پڑھی کہ ان اقدامات کا خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے اور چولستان میں گِدھ اب خاطر خواہ تعداد میں موجود ہیں۔ یہ وہ پرندہ ہے، جسے فطرت نے مُردار جانوروں سے متاثر ہونے والے ماحول کوبہتر کرنے کا کام تفویض کررکھا ہے۔ فطرت کے انتظامات میں رخنہ ڈالیں گے، تو نتیجہ بھگتنا ہوگا۔
فطرت کے جبر سے تحفّظ کے طریقے ضرور اختیار کریں، مگر فطرت نے جو ایک توازن قائم کر رکھا ہے، اُس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔ وہ اقبال نے کہا تھا ناں ؎ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں…کوئی بُرا نہیں، قدرت کے کارخانے میں‘‘۔
تاہم، ایک بات پریشان کیے ہوئے ہے، وہ یہ کہ آخر گَدھوں کا بھی تو فطرت نے کوئی مصرف رکھا ہوگا۔ ہم نے باربرداری والی گدھا گاڑیوں سے گدھے کو بےدخل کر کے اُس کی جگہ موٹر سائیکل لگا دی۔ گدھوں کو بوجھ کھینچنے سے فراغت ملی تو کچھ عاقبت نااندیشوں نے انہیںbeaf کے نام پر شہریوں کو کِھلا دیا۔
اب یہ جس رپورٹ کا ذکر ہوا، اُس کے مطابق گِدھوں کی افزائش کے لیے اُنہیں بے چارے صحت مند گَدھوں کا گوشت کھلایا گیا۔ کوئی تو یہ تحقیق بھی کرے کہ کل کو اگر گَدھے کی نسل نایاب ہوگئی، تو ہمیں کون کون سے مسائل کا منہ دیکھنا پڑسکتا ہے۔