تہران ، بیروت ،کراچی(اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کے حتمی متن پر غور شروع کردیا ہے ، ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’مہر ‘‘کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب سمجھے جانے والے ایک ذریعہ نے منگل کے روز بتایا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لئے پیش کئے گئے حتمی معاہدے کے مسودے پر ابھی تک اپنا جواب نہیں دیا۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے حتمی متن پر تہران میں اب بھی مشاورت اور غور و خوض جاری ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران 47 سالوں سے جو کررہا ہے اسے مزید ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گفتگو مسلسل جاری ہے، انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات معطل ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’غلط اور بے بنیاد‘ قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت کہاں کس انجام پر پہنچے گی کوئی نہیں جانتا، ایران کو بتا دیا ہے کہ اب وقت آ چکا ہے، کسی بھی طرح، آپ کو ایک معاہدہ کرنا ہی ہوگا،دوسری جانب واشنگٹن کی ثالثی میں طے پانے والے بظاہر ایک عبوری معاہدے اور امریکا کی میزبانی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان چوتھے دور کے مذاکرات کے باوجود، منگل کے روز اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فضائی حملےاور بمباری جاری رکھی،حملوں کے نتیجے میں مزید 8افراد شہید اور متعدد زکمی ہوگئے، حزب اللہ نے اسرائیلی افواج کو نشانہ بنایا ہے،حزب اللہ نے کہا ہے کہ گروپ عارضی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی سوشل میڈیا نیٹ ورک ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات کی ہے اور ثالثوں کے ذریعے حزب اللہ کے اعلیٰ نمائندوں سے بھی کامیاب رابطہ ہوا ہے، جس کے بعد فریقین "تمام تر فائرنگ روکنے" پر راضی ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، اسرائیل بیروت پر کوئی حملہ نہیں کرے گا اور جو فوج وہاں بڑھ رہی تھی اسے واپس موڑ دیا گیا ہے، جبکہ حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر جنگ کاٹز کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی آپریشن منصوبے کے تحت اور ہر قیمت پر جاری رہے گا،کاٹز نے کہا کہ صیہونی فوج لبنان میں حملوں کا دائرہ کار بڑھانے پر غور کر رہی ہے، ایران کے چیف مذاکرات کاراور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ انہوں نے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کو بتا دیا ہے کہ اگرلبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو تہران نہ صرف امریکاکے ساتھ مذاکرات روک دے گا بلکہ ہم دشمن کے ساتھ براہِ راست تصادم میں بھی اتر جائیں گے،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ بریفنگ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے باوجود ایران پر عائد پابندیاں نہیں ہٹائیں گےبلکہ پابندیوں میں نرمی اس ’شرط کی بنیاد‘ پر کی جا سکتی ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم اور جوہری پروگرام کے دیگر پہلوؤں سے دستبردار ہو جائے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے آئندہ ہفتے کے دوران ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارےاے بی سی نیوزسے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا صورتحال اچھی دکھائی دے رہی ہے،سب کچھ مثبت سمت میں جاتا نظر آ رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ فوجی فتح سے بھی بہترثابت ہو سکتا ہے۔ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی اور لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا۔‘انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ سب کچھ اپنے انجام تک پہنچے گا۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں فضائی حملے کئے جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق 8افراد شہید ہوئے اور طائر کے بندرگاہی شہر میں ایک اسپتال کو شدید نقصان پہنچا۔ اسرائیل نے لبنان سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی ڈیل کے برعکس، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے امریکی صدر کو بتا دیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہریوں پر حملے نہ روکے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا۔