کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ کی کانگریس میں ایران جنگ پر بریفنگ، سخت سوالات کا سامنا، جنگ کے بعد پہلی عوامی گواہی، سیز فائر کی کوششیں ناکامی کا شکار،قانون سازوں میں امریکی پالیسی پر تشویش، بے چینی بڑھ رہی ہے، بجٹ اور دفاعی اخراجات پر سوالات کیے گئے۔مارکو روبیو کا کہنا تھا مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں اشارے ملےوہ زیادہ سرگرم ہیں، اس دوران کانگریس کے باہر احتجاج کیا گیا اورکئی مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں پہلی بار ایران جنگ کے آغاز کے بعد عوامی طور پر گواہی دی ہے، جہاں وہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ وہ بعد میں ایوان نمائندگان کی کمیٹی میں بھی امریکی محکمہ خارجہ کے تقریباً 36 ارب ڈالر کے بجٹ کا دفاع کریں گے۔ اجلاس کے دوران ایران میں جاری تنازع اور خطے میں کمزور پڑتی جنگ بندی پر قانون سازوں کی جانب سے شدید سوالات کیے گئے۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرین کو پولیس نے کانگریس کے باہر سے حراست میں لیا۔