• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیج میں حملے، سفارتکاری بھی جاری، جزیرہ قشم پر بمباری، ایران کا کویت ایئرپورٹ پر بڑا حملہ، ایک بھارتی ہلاک 63 زخمی، بحرین میں امریکی اڈہ بھی نشانہ

تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) مشرق وسطیٰ میں متحارب فریقوں کے ایک دوسرے پر حملے ‘ سفارت کاری بھی جاری ‘امریکا کی ایرانی جزیرے قشم پر بمباری ‘آئل ٹینکرپر بھی حملہ ‘تہران کی جوابی کارروائی ‘کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پربڑااٹیک ‘13 بیلسٹک اور17ڈرونز داغ دیئے‘ہوائی اڈے کو شدید نقصان ‘ایک بھارتی شہری ہلاک اور63دیگر افرادزخمی ‘سفارت خانے بھی متاثر‘ تہران نے بحرین میں امریکی اڈے اورخلیج عمان میں امریکی فوجی جہاز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم امریکی سینٹرل کمانڈنے اس کی تردید کی ہے ‘ کویتی وزارت خارجہ نے حملوں کے بعد ایرانی سفارتی عملے کے دو ارکان کوناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیدیااورکہاکہ کویت اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔ پاسدارانِ انقلاب نے امریکی افواج پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جزیرہ قشم پر ایک آئل ٹینکر اور کمیونی کیشن ٹاورکو نشانہ بنا کر ان حملوں کے لیے اشتعال انگیزی پیدا کی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بناتے ہوئے ایران کے جزیرہ قشم پر اہداف کے خلافاپنے دفاع میں حملے کیے ہیں ‘صدر ٹرمپ نےاسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو سے فون پر گفتگو اور انہیںپاگل کہنے کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ غصے میں نہیں تھے تاہم لبنان سے مسلسل لڑائی پر پریشان ہوگئے تھے ‘ انہوں نے بتایاکہ تہران کے ساتھ بات چیت بہت اچھی جارہی ہے ‘ ہفتے تک معاہدہ ہوسکتاہے اورممکن ہے نہ بھی ہو‘ مذاکرات میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں‘ میں ان سے ملنا چاہوں گا‘میں ہر کسی سے ملنا چاہوں گا۔دوسری جانب نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ‘ہم دونوں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر متفق ہیں ‘تہران آگ سے کھیل رہا ہے ‘اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی کادوبارہ مکمل آغاز ہو جائے گا ۔ امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیوکے مطابق مذاکرات میں افزودہ یورینیم بنیادی مسئلہ ہے ‘ ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا‘جنگ ختم ہوچکی ‘امریکا نے فتح حاصل کرلی ہے ‘سعودی عرب نے بحرین اور کویت پر حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہےجبکہ اماراتی صدر کے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش کاکہنا ہے کہ کسی بھی خلیجی ریاست کو ایرانی حملوں کا نشانہبننے کے لیے تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاندانہ اقدام کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا‘ایرانی مسلح افواج ان مقامات پر حملے کر رہی ہیں جہاں سے امریکا کو حملوں کی اجازت ملی ہوئی ہے‘واشنگٹن کے ساتھ رابطے برقرار ہیں تاہم بات چیت میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہوئی ہے ‘بیروت پر کوئی بھی حملہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو دوبارہ مکمل طور پر بھڑکا دے گاجبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کو مفت میں دھمکیاں دینے کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب ایک فیصلہ کن‘عبرتناک اور متناسب کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید