اسلام آباد/ ٹوکیو( تنویر ہاشمی/ عرفان صدیقی ) جنرل منیجر ای ڈی بی نے کہا کہ درامدی گاڑیوں کی پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن بھی لازمی ہے، چیف کلکٹر کسٹم پورٹ قاسم نے کہا کہ 400 سے زائد گاڑیاں ایسی ہیں جنہوں نے ای ڈی بی سے انسپیکشن سرٹیفیکیٹ حاصل نہیں کیا،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تجارت نے بتایا کہ بہت سی گاڑیوں نے پری شپمنٹ انسپیکشن بھی نہیں کروائی،آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پری شپمنٹ انسپیکشن کے بعد دوبارہ جانچ کا جواز نہیں، وزیراعظم نوٹس لیں،وزارتِ تجارت اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی کلیئرنس کی منتظر سیکڑوں درآمدی گاڑیاں کراچی بندرگاہ پر پھنس گئی ہیں ، جاپان اور دیگر ممالک سے درآمدکی جانیوالی گاڑیوں کی کلیئرنس نہ ہونے کے باعث درآمد کنندگان اور بیرون ملک پاکستانیوں کو مشکلات کاسامنا ہے ،حکام کے مطابق گاڑیوں کی درآمد کے لیے وزارت تجارت کے ایس آر او کے مطابق پری شپمنٹ انسپکشن اور بندرگاہ پر ای ڈی بی کے رولز کے تحت سیفٹی اور سکیورٹی سے متعلق پوسٹ شپمنٹ انسپکشن لازمی ہے جس کے اخراجات درآمد کنندگان کو ادا کرنا ہوتے ہیں تاہم درآمد کی جانیوالی گاڑیوں کے پری شپمنٹ انسپکشن کے بعد کراچی پورٹ پہنچنے پر پوسٹ شپمنٹ انسپکشن نہیں کرائی گئی جس کے باعث کلیئرنس میں مشکلات آرہی ہیں ، آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وزارتِ تجارت کے ایس آر اوز کے مطابق ای ڈی بی کا اختیار صرف گاڑیوں کے سیفٹی اور سیکیورٹی فیچرز کا تعین کرنا ہے، جبکہ انسپیکشن کمپنیوں کی نامزدگی اور طریقہ کار کا تعین پی ایس کیو سی اے کی ذمہ داری ہے جو وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے ماتحت ادارہ ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق وزارتِ تجارت نے 16 دسمبر 2025 کو ایس آر او نمبر 2443 کے ذریعے پی ایس کیو سی اے کی نامزدگی اور اختیار کی توثیق بھی کر دی تھی، درآمد کنندگان کے مطابق بیرون ملک مکمل انسپیکشن سے گزرنے والی گاڑیوں کی دوبارہ جانچ کا کوئی قانونی جواز موجود نہیںاور ای ڈی بی کے نوٹیفکیشن WP-29/2025 کے باعث کلیئرنس کا عمل رک گیا ہے، جس سے سینکڑوں گاڑیاں بندرگاہ پر کھڑی ہیں اور حکومت، درآمد کنندگان اور اوورسیز پاکستانی کروڑوں روپے کے مالی نقصان سے دوچار ہیں۔