اسلام آباد( نیوز رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومتی ٹیکس پالیسی نے مڈل کلاس کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا، حکومت بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کو انکم ٹیکس پر چھوٹ دے اور بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے تینوں یوٹیلیٹیز کی قیمتوں کو آئندہ چند برسوں کے لیے فکس کردے، آئی پی پیز اور ری گیسی فیکیشن کے مہنگے معاہدے ختم کیے جائیں اور سود سے جان چھڑائی جائے، آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ ہوجائے تو موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے کرتا دھرتا لٹک جائیں گے،تنخواہ دار طبقہ سے سالانہ چھ سو پانچ ارب اکٹھے کیے جاتے ہیں، یہ ظلم کا نظام ہے۔ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ’’بجٹ، معیشت اور توانائی، بحران سے حل تک‘‘کے موضوع پر معاشی ماہرین اور سینئر نمائندگان ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدہ پر کام کے آغاز، مقامی حکومتوں کے نظام کو موثر بنانے اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کے بھی مطالبات کیے۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوتی ہے، اس پروگرام سے غربت کی شرح میں کوئی کمی نہیں آئی ،انہوں نےٹیکسوں کے موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت عام آدمی سے پٹرولیم لیوی ، بجلی اور گیس کے بلوں پر اربوں روپے ٹیکس وصول کررہی ہے۔