کراچی(اسٹاف رپورٹر) انتظار کی گھڑیاں ختم، ورلڈ کپ فٹبال کے سحر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا، پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں شامل نہیں، مگر شہر کراچی میں لیاری، ملیر، اورنگی ٹائون، اور شہر کے کئی دوسرے علاقوں کو بھی فٹبال ورلڈکپ کے رنگ میں رنگ گیا،مختلف ممالک کے جھنڈے کھلاڑیوں کے پوسٹر آویزاں کردیئے گئے، فٹبال کے شوقین بچے پسندیدہ ٹیم کی جرسیاں پہنے ہلہ گلہ کرتے نظر آرہے ہیں ، میزبان ملکوں میں ٹیموں کی آمد جاری ہے۔برازیل کی ٹیم امریکا پہنچ گئی، نیویارک میں ٹرافی کی رونمائی کردی گئی، فیفا ورلڈ کپ میں پہلی بار 48ٹیمیں شرکت کریں گی، ریکارڈ 1248 کھلاڑی شریک ہوں گے۔میگا ایونٹ 11 سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے قریب آتے ہی دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی توجہ نہ صرف ٹورنامنٹ پر بلکہ اس مشہور ٹرافی پر بھی مرکوز ہو گئی ہے جسے جیتنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔ارجنٹینا اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے میدان میں اترے گا ، موجودہ فیفا ورلڈ کپ ٹرافی تقریباً 37 سینٹی میٹر بلند اور 6 کلوگرام وزنی ہے۔ اسے 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ہے جبکہ اس کے نچلے حصے میں سبز رنگ کے قیمتی پتھر ملاکائٹ کا استعمال کیا گیا ہے، سونے کی موجودہ عالمی مالیت کے تناسب سے اس ٹرافی کی قیمت کا تعین کیا جائے تو یہ تقریباً 2.5 لاکھ امریکی ڈالر (7 کروڑ پاکستانی روپے) بنتی ہے۔ٹرافی کا ڈیزائن 2 انسانی مجسموں پر مشتمل ہے جو زمین کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہیں، اسے اطالوی مجسمہ ساز سلویو گازانیگا نے 1970 میں ڈیزائن کیا تھا،فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو اصل ٹرافی نہیں دیتی بلکہ سونے کے پانی والی نقل ٹرافی دی جاتی ہے اور اصل ٹرافی فیفا اپنی تحویل میں ہی رکھتی ہے۔فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی نے غلط قیمتوں والے ٹکٹ منسوخ کر د ئیے ہیں اور متاثرہ شائقین کو پوری قیمت پر دوبارہ ٹکٹ خریدنے کا موقع دیا گیا ہے۔