اسکردو (نثار عباس نمائندہ جنگ، نیوز ڈیسک) گلگت بلتستان اسمبلی کے 24حلقوں میں ووٹنگ کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی پہلے، مسلم لیگ (ن) دوسرے اور آزاد امیدوار تیسرے نمبر پر ہیں، پیپلز پارٹی10، مسلم لیگ (ن)6، آزادامیدوار5، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 2اور ایک نشست پر ایم ڈبلیو ایم کا امیدوار کامیاب رہا۔ جی بی اے 1 گلگت سے پیپلزپارٹی، جی بی اے 2 گلگت سے مسلم لیگ نواز، جی بی اے 3 گلگت سے تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار، جی بی اے 4 نگر سے پیپلزپارٹی، جی بی اے 5نگر سے پیپلز پارٹی، جی بی اے 6 ہنزہ سے تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار، جی بی اے 7اسکردو سے پیپلزپارٹی،جی بی اے 8اسکردو سے ایم ڈبلیو ایم، جی بی اے 9 اسکردو سے پیپلزپارٹی، جی بی اے 10روندوسے پیپلز پارٹی، جی بی اے 11کھرمنگ سے پیپلزپارٹی، جی بی اے12 شگر سے پیپلزپارٹی، جی بی اے 13 استور سے مسلم لیگ نواز، جی بی اے 14استور سے مسلم لیگ نواز، جی بی اے 15دیامر سے آزاد، جی بی اے 16 دیامر سے آزاد، جی بی اے 17داریل سے پیپلزپارٹی، جی بی اے 18 تانگیر سے مسلم لیگ نواز، جی بی اے 19غذر سے پیپلز پارٹی، جی بی اے 20 غذر سے مسلم لیگ نواز، جی بی اے 21یاسین سے آزاد امیدوار، جی بی اے 22 گانچھے سے مسلم لیگ نواز، جی بی اے 23 گانچھے سے آزاد سے اور جی بی اے 24گانچھے سے آزاد امیدوار کامیاب رہا۔ 24میں سے 13نشستیں حکومت سازی کیلئے درکار ہے۔ مخصوص نشستیں الاٹ ہونے کے بعد ایوان 33نشستوں کا ہو جائیگا، جسکے بعد کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حکومت سازی کیلئے 17نشستوں درکار ہونگی، واضح رہے کہ مخصوص نشستوں میں خواتین کی 6اور ٹینکو کریٹ 3نشست ہیں جو جنرل سیٹوں پر کامیابی کے تناسب سے الاٹ ہونگی، اس طرح ایوان 33 کا ہو جائے گا، بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں کی کامیاب کے بعد آزاد امیدوار ’کنگ میکر‘ بن سکتے ہیں؟ دریں اثناء چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے تمام حلقوں کے آر اوزکو مصدقہ فارم 45جاری کرنےکی ہدایت کردی، پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ الیکشن کو متنازع نہ بنایا جائے، الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے، قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پولنگ اسٹیشنوں کو دور منتقل کرکے ہماراووٹ بینک متاثرکیاگیا،جبکہ پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیرحسین بخاری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کو فارم 45 فراہم نہیں کیےجارہے، انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے، اب ماحول خراب نہ کیا جائے، الیکشن کمیشن کو فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ ابھی تک موصول متعدد فارم45کے مطابق پی ٹی آئی کوبرتری حاصل ہے۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں اتوار کو 24نشستوں پرہونے والے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گلگت بلتستان الیکشن میں مجموعی طور پر 403امیدواروں نے حصہ لیا۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کےلیے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش رہا اور لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے رہے، پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام 5بجے تک جاری رہی۔ دریں اثناء چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے تمام 24 حلقوں کے ریٹرننگ افسران کو مصدقہ فارم 45 جاری کرنےکی ہدایت کردی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی ہےکہ یہ عمل الیکشن ایکٹ2017 اور الیکشن رولز2017کی متعلقہ دفعات کےمطابق یقینی بنایا جائے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر فارم 45جاری کیےجا رہے ہیں جہاں گنتی مکمل ہوچکی ہے، کوئی بھی میڈیاچینل فارم 45جاری نہ ہونے کے حوالے سے غیر مصدقہ خبریں نہ چلائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت انتخابات میں امن امان کی صورتحال بہتر رہی۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن ہمارےتحفظات پرفوری ایکشن لے۔ قمر زمان کائرہ کا کہنا تھاکہ گلگت بلتستان میں پولنگ اسٹیشنوں کو دور منتقل کرکے ہماراووٹ بینک متاثرکیاگیا، بعض پولنگ اسٹیشنوں پر عملہ تاخیر سےپہنچا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو جان بوجھ کرسست روی کا شکار کرنا منصفانہ الیکشن پرسوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیرحسین بخاری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کو فارم 45فراہم نہیں کیے جارہے، چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کرکے معاملے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں ابھی تک موصول متعدد فارم 45کے مطابق پی ٹی آئی کوبرتری حاصل ہے۔ اپنے بیان میں شفیع جان کا کہنا تھاکہ گلگت بلتستان میں انتخابی عمل کا آخری اور اہم مرحلہ شروع ہوچکا اور ووٹ کے تحفظ کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گراؤنڈ پر پی ٹی آئی کی دیگرسیاسی جماعتوں پر برتری واضح ہے، عوام اپنے ووٹ کےتحفظ کیلئےنتائج کےعمل پرنظررکھیں۔ شفیع جان کا تھاکہ انتخابات کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں کے پولنگ کیمپ خالی پڑےرہے۔