کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےآئندہ بجٹ میں ا سٹیشنری پرجی ایس ٹی میں8 فیصداضافے کی تجویز کو مسترد کیاہے اس حوالے سے صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن بلوچستان نذر بڑیچ کاکہنا ہے کہ سٹیشنری آئٹم پر اضافی ٹیکس سے غریب عوام پر بہت زیادہ بوجھ پڑے گاانہوں نے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کیاہے کہ تعلیمی حق کا تحفظ کیاجائے اورتعلیم مخالف تجویز کو مسترد کریں ملک کوتعلیمی ایمرجنسی کا سامنا ہے سٹیشنری کی زیادہ قیمت والدین کو خوراک وتعلیم میں کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرے گیبالخصوص لڑکیوں میں تعلیم چھوڑنے کی شرح بڑھے گینوٹ بک، پنسل، نصابی کتب اور دیگر ضروری تعلیمی مواد پر جی ایس ٹی میں 8 فیصد اضافہ فوری طور پر لاکھوں خاندانوں کی تعلیم کے اخراجات کو بڑھا دے گا ایسے ملک میں جہاں28 ملین سے زائد بچے پہلے ہی سکولزسے باہر ہیںیہ اقدام لاکھوں مزید بچوں کوتعلیمی غربت کی جانب دھکیل دے گاآرٹیکل 25A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرےضروری تعلیمی ذرائع پر ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ اس ذمہ داری سے متصادم ہے۔