السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
تم قتل کرو ہوکہ…
آپ کی کمال ایڈیٹنگ کے ساتھ دوسری خصوصیت برجستہ جوابات ہیں۔ جب آپ 10 صفحات کے خط کو چند سطروں میں سمیٹ دیتی ہیں، تو بندہ اپنی تحریر تلاشتا ہی پھرتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ ؎ تم قتل کرو ہو کہ کرامت کرو ہو۔ منیر احمد خلیلی کا ’’ایپسٹین فائلز‘‘ سے متعلق آرٹیکل شائع ہونا چاہیے تھا یا نہیں، اِس پر متضاد آراء ہوسکتی ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ایک ’’فیملی میگزین‘‘ ہے، جسے گھر کے بڑے، چھوٹے سب ہی پڑھتے ہیں، تو اگر اِس میں اِس واہیات موضوع سے احتراز کیا جاتا، تو اچھا ہوتا۔
آپ نے مختلف موضوعات پر لکھنے کے لیے جن جن لوگوں کو میرٹ پرمنتخب کیا، اُن تمام ہی نے اپنا انتخاب درست ثابت کیا۔ آج بھی شائستہ اظہر کے ڈمی تاریخی خط کا کوئی جملہ یاد آجاتا ہے، تو چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے، خط نہ ہوا، صدقۂ جاریہ ہوگیا۔ اُن کے ڈمی تاریخی خط پارٹ2 کا شدت سے انتظار ہے۔ آپا بانو قدسیہ مرحومہ فرماتی تھیں۔ ’’جب لوگ لکھنا سیکھ جائیں گے، تو مختصر لکھا کریں گے اور جب بولنا سیکھ جائیں گے تو اکثر خاموش رہا کریں گے اور وہی حقیقی امن اور بلوغت کا زمانہ ہوگا۔‘‘ آپ کے جریدے پر بھی یہی قول صادق آتا ہے۔
’’آپ کا صفحہ‘‘ کے خطوط پڑھنا درحقیقت دل کو بہت ہی خوش گوار سا احساس دیتا ہے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں عرفان جاوید نے بھی ’’ماٹی کہے کمہار سے‘‘ افسانے کا جو انتخاب کیا، اُس میں کلاسیک خطوط پڑھنے کو ملے؎ ڈھونڈو گے اگر مُلکوں مُلکوں، ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم، ’’احسنِ تقویم‘‘ جیسے شاہ کارسلسلے میں رحمان فارس نادرِ روزگار شخصیات کا تعارف کروا رہے ہیں۔ اور اس قدر شائستگی وعُمدگی سے کہ پڑھ کر دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔
بے شک، یہ ہمارے گراں قدر ہیروز، رول ماڈلز ہیں اور اِس سلسلے ہی کے سبب نسلِ نو کو اُن سے متعلق سیرحاصل معلومات حاصل ہورہی ہیں۔ آخری بات، منفرد صفحے ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے متعلق کہ اس کی خصوصیات کے بیان کے لیے تو الفاظ ہی نہیں ملتے۔ اِس نے پورے ملک کو جیسے ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ (محمّد ادریس سلیمان، سعدی ٹائون، کراچی)
ج: جی، ہم قتل ہی کرے ہیں، آپ کے اِس پانچ صفحاتی خط کی تو تقریباً ہر سطر ہی پرخون کے دھبّے (سُرخ سیاہی کے نشان) خاصے واضح ہیں۔ ہم ہاتھ جوڑ جوڑ تھک گئے ہیں کہ بھیا! آپ لوگوں کی ذاتی زندگیوں سے ہمیں قطعاً کوئی دل چسپی نہیں، خدارا جریدے کے مندرجات تک محدود رہیں، مگر آپ لوگوں کا بس نہیں چلتاکہ اپنی پیدائش سے پہلے کے قصّے بھی گوش گزار کیے جائیں۔
اللّے تللّے بند ہونے چاہئیں
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی نے عیدالفطر کی فضلیت بیان کی۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے معاشرے کے اُن افرادکی طرف توجّہ مبذول کروائی، جو کسی نہ کسی وجہ سے عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو پاتے۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نےکشورناہید کا تعارف پیش کیا۔ ’’اسٹائل‘‘ پر ایڈیٹر صاحبہ کی تحریر بھی پسند آئی۔
منور مرزا نے ’’حالات و واقعات‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ حُکم رانوں کو اللّے تللّے بند کردینے چاہئیں، لیکن یہ اُن کی خوش فہمی ہی ہے، حُکم ران ایسا کرنے پر کبھی راضی نہ ہوں گے۔ افشاں نوید نے بہت ہی سبق آموز مضمون لکھا، اسرار ایوبی کرسٹین امان پور پر خُوب صورت تحریر لائے۔ ثمینہ نعمان کا افسانہ پسند آیا۔ ہمارا خط شائع کرنے کا بہت بہت شکریہ۔
اگلے شمارے سے’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ غائب تھا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا پاکستان اور عالمی معیشت کےموضوع پر تجزیہ کررہے تھے۔ تھرمل رسیدیں اتنی ہی نقصان دہ ہیں، تو اُن کا استعمال بند ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر محمّد جلال عارف نے اعلیٰ تعلیم کو پاکستان کی ضرورت قراردیا اور ڈاکٹر سکندر اقبال سگ گزیدگی پر معلوماتی مضمون لائے۔ رحمان فارس نے استاد حامد علی خان کا شان دار تعارف پیش کیا۔ روبینہ شاہد کا افسانہ سبق آموز تھا۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
مُرید بننا چاہتا ہوں
مَیں ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہوں، مضمون تو میرا انگلش تھا، لیکن شاعری اُردو میں کرتا ہوں، آج کل کلاشنکوف سستی اور کتاب منہگی ہے، جریدے میں رحمان فارس کے خاکوں کا منتظر رہتا ہوں۔ ویسے میں بےمرشدا ہوں۔
جیو پر فارس کا انٹرویو اور شاعری سُن کر اتنا متاثر ہوا کہ اُن کا مرید بننا چاہتا ہوں، ویسے پہلے مَیں رن مرید ہوں۔ (ماسٹرصفدرحسین صنفی، قائدِاعظم مارکیٹ، حاصل پور، بہاول پور)
ج: ہمیں تواُس نسل کی فکرہے، جسےاتنےغیرسنجیدہ استادِمحترم سے حصولِ تعلیم کا شرف حاصل ہوا۔ ہمیں آپ کی تحریر شائع کرتے شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے، آپ کو خُود خیال نہیں آتا کہ اتنی سطحی گفتگو آپ کے طلبہ پڑھیں گے، تو آپ سے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔ ویسے آپ کو رحمان فارس کی شاگردی اختیار کر ہی لینی چاہیے، شاید تہذیب و اخلاق میں کچھ بہتری آجائے۔
ایک عرضداشت بھیجی تھی
کچھ عرصہ قبل ایک عرضداشت بھیجی تھی، جس کا جواب ابھی تک نہیں آیا۔ اُمیدِ واثق ہے کہ آپ میری عرضی پر ہم دردانہ غور فرمائیں گی۔ مَیں نے درخواست کی تھی کہ محمود میاں نجمی سے شہدائے مشہد سے متعلق بھی کچھ لکھوائیں۔
منور مرزا سے متعلق سوال کیا تھا کہ کیا وہ 1960-62ء کی دہائی میں ڈگری کالج، میانوالی کی طالبِ علم رہے ہیں؟ اُن سے پوچھ کر بےشک جواب جریدے ہی میں لکھ دیں۔ اور سوم، شکیل عادل زادہ اور ’’سب رنگ‘‘ سے متعلق بھی کچھ لکھیں۔ شُکرگزار رہوں گا۔ (نیازمند، کوئٹہ)
ج: آپ کا پیغام نجمی صاحب تک پہنچ گیا ہے۔ منور مرزا صاحب کبھی ڈگری کالج، میاں والی کے طالبِ علم نہیں رہے، لیکن اُن کےمزاج میں اتنی عاجزی و انکساری ہے کہ اُنھوں نے محض اِس سوال پر بھی آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ’’مَیں آج بھی ایک طالبِ علم ہی ہوں، ممکن ہے کبھی حصولِ علم کے لیے ڈگری کالج بھی چلا جائوں۔‘‘ اور شکیل عادل زادہ اور ’’سب رنگ‘‘ سے متعلق ہم بہت کچھ شایع کرچُکے ہیں۔ نیز، وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ شایع ہوتا بھی رہتا ہے۔ اب آپ یہ بتادیں، اتنا ہم دردانہ غور کافی ہے؟؟
جنگ کے ساتھ وابستگی کی کہانی
روزنامہ جنگ کے ساتھ میری وابستگی بہت پرانی ہے، مگر گزشتہ 5 سال سے مَیں ریڑھ ہڈی کے کینسرمیں مبتلا ہوں۔ جب 1961ء میں اسلامیہ ہائی اسکول، راول پنڈی کا طالبِ علم تھا، پہلی بارمیونسپل لائبریری گیا اور جنگ اخبار میں ٹارزن کی کہانی پڑھی۔ پھر1965 ء تک رئیس امروہی کی رُباعیوں کا پکا قاری بن گیا۔
ایک پارٹ ٹائم جاب کے لیے گالف کلب جانے لگا، تو وہاں گالف کوچ کو پورا اخبار پڑھ کرسُناتا۔ آہستہ آہستہ شوکت تھانوی، زیڈ اے سلہری وغیرہ کےمضامین پڑھنا شروع کردیئے۔
بعدازاں، وزیرِاعظم ہاؤس میں ملازم ہوا، تو جنگ اخبار پڑھنے کا خُوب خُوب موقع ملا۔ تب سے اب تک مَیں اور جنگ گویا لازم و ملزوم ہیں۔ اب آپ کا میگزین بھی بصد شوق پڑھتا ہوں۔ بس، یہی میری جنگ کے ساتھ وابستگی کی کُل کہانی ہے۔ (پروفیسر مہربان علی، جھنڈا چیچی، نزد خان اسکول، راول پنڈی کینٹ)
ج:دُعاہےکہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے مگرہم معذرت خواہ ہیں ،آپ کےخط کی بیش ترغیرمتعلقہ باتیں قلم زدکرنا پڑیں کہ یہ صفحہ صرف جریدے کے مندرجات پر تبصرہ آرائی کے لیے ہی مختص ہے۔
سب سے بڑا اعزاز
دو شماروں پر تبصرہ حاضرِ خدمت ہے۔ پہلے قبل ازوقت، پِری میچور پیدا ہونے والے ’’عیدالفطر ایڈیشن‘‘ پر(جو اتوار کے بجائے جمعرات ہی کو وصول پا گیا) بات ہو جائے۔ گوکہ یہ موقع محل کی مناسبت سے کچھ ’’لاغر‘‘ سا تھا۔ بہرحال، تقاضائے وقت و حالات ہے۔ حافظ ثانی حسبِ معمول ایسے مضمون کے ساتھ وارد ہوئے، جس سے اہلِ ایمان کودلی مسرت وشادمانی اور وابستگی واُلفت کا بے پایاں احساس ہوتا ہے۔
یہ تحقیق سے مرصّع تحریر کم ازکم میرے لیے تو سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اگلی دو تحاریر میں مختلف ادوار میں منائی جانےوالی عیدین کا ژرف نگاہی سےاحاطہ کیا گیا، ویل ڈن۔ رابعہ فاطمہ، ثانیہ انور قابلِ صدستائش، ڈاکٹر سکندراقبال بھی ایک سے بڑھ کر ایک نگارش کے ساتھ آ رہے ہیں، عید سے متعلقہ تحریر کا جواب نہ تھا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ خُوب سے خُوب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس بار ’’ڈائجسٹ‘‘ کا انتخاب بھی لاجواب تھا۔ پھر ذکی طارق کا کلام، پیاروں کےنام شائستہ، شگفتہ، والہانہ، عاجزانہ و مربیانہ پیغامات کا پہلا حصّہ اور آپ کا صفحہ کے معیاری خطوط، سب ہی کا کیا کہنا۔
اگلے شمارے کا تو سرِورق ہی فنٹاسٹک تھا، مگر منور مرزا مشرقِ وسطیٰ کے دگرگوں، ناگفتہ بہ حالات و واقعات پر نوحہ کناں نظر آئے۔ اگلے دونوں مضامین خاصے الارمنگ، تشویش ناک تھے۔ رابعہ فاطمہ سوشل میڈیا کی قہرمانیوں، چیرہ دستیوں اور لامتناہی خرافات جیسے موضوع پرقلم طراز تھیں، تو ڈاکٹر سکندر بھی ریبیز پر معلومات افزا تحریر لائے۔ ’’متفرق‘‘ میں مختلف موضوعات پرقلم آزمائی اچھی معلوم ہوتی ہے۔
رحمان فارس کا قلم اورحامد علی خان کا خاکہ شاہ کارکی صُورت سامنے آئے۔ معاشرے میں اتنی متنوّع الاقسام شخصیات موجود ہیں کہ اُمید ہے، فارس کو ہر ہفتے باآسانی کوئی نہ کوئی بشر ملتا رہے گا اور قارئین یوں ہی سیراب ہوتے رہیں گے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہرکی تحریر بےمثال تھی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ پھر بازی لے گیا، بقیہ پیغامات کا دوسراحصّہ میرے پیغام سمیت نظرنواز ہوا۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ مَیں اِسے سب سے پہلے پڑھتا ہوں۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، طارق آباد، فیصل آباد)
ج: جی بے شک، ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے لیے بھلا اِس سے بڑھ کر کوئی اعزاز کیا ہوگا۔
ایک سے بڑھ کر ایک خاکہ
میگزین کے آغاز ہی میں منور مرزا ’’حالات و واقعات‘‘ کے ساتھ محفل جمائے ہوئے تھے۔ مشرق وسطیٰ پر اچھا مضمون تحریر کیا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ کے رحمان فارس نے تو بھئی ہمارا دل ہی جیت لیا ہے۔ ایک سے بڑھ کرایک خاکہ لا رہے ہیں۔ ’’نئی کتابیں‘‘ میں اختر سعیدی نے کمال تبصرہ کیا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ بھی اچھا جا رہا ہے۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ میں گلی قاسم جان، دہلی سے آیا ہوا پیغام پڑھ کے اچھا بلکہ بہت بہت اچھا لگا۔
اگلے شمارے کے ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا اور ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس اپنی خُوب صُورت نگارشات کے ساتھ موجود، جب کہ عرفان جاوید غائب تھے۔’’متفرق‘‘ میں عبدالستار ترین نے لاڑکانہ تاجیکب آباد ریلوے لائن سے متعلق اچھامضمون تحریر کیا۔
حکومتِ وقت کو اِس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں رانا محمد شاہد نے ہیٹ ٹرک کرلی، جب کہ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں بھی ’’فریبِ نظر‘‘ کے ساتھ موجود پائے گئے۔ اور ’’نئی کتابیں‘‘ میں اختر سعیدی کے تبصروں کا جواب نہ تھا۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
فی امان اللہ
منور مرزا ’’مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کیوں؟‘‘ کے عنوان سے حالاتِ حاضرہ کا تاریخی حوالوں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ سچ ہے، خلافتِ عثمانیہ کے بعد اس کےزیرِتسلّط مسلمان ممالک یک جا نہ ہوسکے۔ ہوتے بھی کیسے کہ خلافت ہی نے تو ان کو ایک لڑی میں پرورکھا تھا۔ ندیم گوہر تھرمل رسیدوں کی سہولت و نقصانات سے آگاہ کر رہے تھے، مگر اب تو اِن کا استعمال شاپرز کی طرح ہونے لگا ہے۔
رابعہ فاطمہ ہمیشہ کی طرح سماج کے ایک اہم ترین موضوع ’’تنہائی‘‘ پر خصوصی تحریر لائیں۔ آن لائن تعلق بھی سماجی تنہائی ہی کی ایک قسم ہے، جس کا آج کل تقریباً ہرشخص ہی شکارہے اور اس کے نفسیاتی اثرات لوگوں کے رویوں میں بھی واضح نظرآتے ہیں۔ استاد حامد علی خان پر رحمان فارس کی تحریر نہایت دل چسپ تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک گلوکار کو دل فتح کرنے کے لیے بڑی ریاضت کرنا پڑتی ہے۔
سہیل وڑائچ نے ایک کلاسیک گلوکار کا انٹرویو کیا، تو انہوں نے بتایا کہ مِیں نے20 سال آم نہیں کھائے کہ میرے گلے، آواز کا مسئلہ نہ ہو۔ اور ہمارے خیال میں آم کی قربانی دینا، کوئی چھوٹی قربانی نہیں۔ ’’شادی سیزن‘‘ کی مناسبت سے جہاں ماڈل کےرنگ برنگے ملبوسات خُوب تھے، وہیں شائستہ اظہرکی تحریر کا بھی جواب نہ تھا۔ بہت ہی دل چسپی سے پڑھی گئی۔ ’’پیارا گھر‘‘ کی دونوں تحاریر بھی اچھی تھیں۔ ثاقب عبداللہ نظامی اور محمد اکرام نے موٹیویشنل موضوعات پرمختصر مگر جامع لکھا۔
’’ڈائجسٹ‘‘ پرروبینہ شاہد کا افسانہ ’’مسبب الاسباب‘‘ پڑھتے ذاتی زندگی کے بھی کئی واقعات ذہن میں گردش کرنے لگے۔ بے شک، اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ ’’تم مجھے یاد کیا کرو، مَیں تمہیں یاد کروں گا۔‘‘ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ایک قاری کے جواب میں آپ نے لکھاکہ’’آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہی ایڑ لگاتی ہے، وگرنہ اور تو کوئی خاص موٹیویشن رہ نہیں گئی۔‘‘ سوفی صد بجا فرمایا۔ ایک عرصے سے روزانہ لائبریری جانا معمولات میں شامل ہے۔
مگر اب دیکھ کےسخت افسوس ہوتا ہے کہ کاغذ کے ساتھ چند گِنے چُنے لوگ ہی وابستہ رہ گئے ہیں۔ اکثریت اپنی ڈیجیٹل دنیا میں گم ہے اور زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اس مصنوعی دنیا میں بہت خوش بھی ہیں۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: آپ کی تحریر مناسب ہوتی ہے، تو چوکھٹے میں جگہ پالیتی ہے، وگرنہ مسلسل تاکید کے باوجود آپ سطر چھوڑ کر لکھنے کا تردّد نہیں فرماتے، نتیجتاً ایڈیٹنگ کسی دردِ سر سے کم نہیں ٹھہرتی۔
* مَیں حافظ بلال بشیر کے مضامین بہت ہی شوق سے پڑھتا ہوں۔ (ذیشان خان)
ج: یہ تو آپ بہت ہی اچھا کام کرتے ہیں، لیکن باقی بھی پڑھ کے دیکھا کریں، دوسرے مضمون نگار بھی اچھا لکھتے ہیں۔
* جب مَیں یہ ای میل لکھ رہی ہوں، ہوا شور مچاتی گلی سے گزر رہی ہے،ساتھ خشک پتوں کا ڈھیربھی اُدھر سے اُدھربکھیررہی ہے۔ ڈاکٹرمحمدعاصم بریسز سے متعلق اچھی تحریر لائے۔ دُعا عظیمی کاافسانہ ’’رسیلی خوبانیوں کے سائے میں‘‘ تو جیسے محبّت کی جادونگری میں لے گیا۔ میرے لیے ایک بہترین تحفہ تھا یہ افسانہ۔ ’’دھول بَن‘‘کا اختتام کچھ سمجھ نہیں آیا۔ حافظ بلال بشیر پہاڑوں کی اہمیت اجاگر کررہے تھے۔ ’’اسٹائل‘‘پرجیکارڈ فیبرک کا بلیزر غضب ڈھا رہا تھا۔ اگلے شمارے میں ڈاکٹر عاطف حفیظ کی ’’اینٹی بایوٹکس‘‘ پر ایک طویل تحریر موجود تھی۔
ثناء توفیق نے ’’کراچی کی سردی‘‘ کا ذکر کیا تو بچپن/لڑکپن کی یادیں تازہ ہوگئیں، مگر وہ بُھنے چنوں، تل کے لڈوئوں اور بُھٹّوں (مکئی) کا تذکرہ کرنا بھول گئیں۔ ’’بھٹا مزدور‘‘ بہت دل دوز تحریر تھی۔ عندلیب زہرا نے اپنے مضمون میں ’’تعلیم وتربیت‘‘ اور ’’نونہال‘‘ کا ذکرکیا توایک بار پھربچپن کی یادیں تازہ ہوگئیں۔
تحریم فاطمہ کی’’دوستی‘‘ پہ تحریر پڑھ کے آنکھ بھر آئی۔’’آپ کا صفحہ‘‘ میں محمد صفدرخان کے خط میں اپنا ذکر پڑھ کے دل بہت خوش ہوا۔ طیبہ فاروقی نے ’’نیویارک کے نئےمیئر‘‘ سے متعلق عُمدہ مضمون لکھا۔ اور ہاں، ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات پر سات شالز کا تذکرہ تھا، لیکن تصاویر صرف چار دکھائی دیں۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)
ج: یہ سات شالزاورچارتصاویروالا مسئلہ، نیٹ ایڈیشن مرتّب کرنے والوں کی طرف سے ہوا۔ سو، تمھاری ای میل پڑھتے ہی اُنھیں اس ضمن میں تنبیہ کی گئی،جس کے بعد شکایت فوری دُوربھی کردی گئی اوراُمید ہے، اب آئندہ ایسی شکایت نہیں ہوگی۔
* میگزین میں ایڈیٹر صاحبہ کی’’کلر آف دی ایئر2026ء، دودھیا سفید رنگ‘‘ پر تحریر بہت ہی پسند آئی۔ اللہ تعالیٰ سے دُعاگو ہیں کہ سالِ رواں پوری دنیا کے لیےامن و سلامتی کا سال ہو۔ ( ڈاکٹر ایم عارف سکندری، کھوکھر محلہ، حیدرآباد، سندھ)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk