• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نائلہ روبی، واہ کینٹ

رات کے آخری پہر شہر کی سڑکیں سنسان تھیں۔ بارش تھم چُکی تھی، مگر زمین اب بھی بھیگی ہوئی تھی۔ گلی کے نکڑ پر ایک پرانا سا پُل تھا، جسے لوگ مذاق میں ’’پُلِ صراط‘‘ کہتے تھے۔ وجہ شاید یہ تھی کہ وہ پُل اتنا تنگ تھا کہ دو آدمی ایک ساتھ نہیں گزر سکتے تھے۔نیچے نالہ بہتا تھا، گندا، شورمچاتا ہوا، جیسے زندگی کے سارے پچھتاوے وہاں جمع ہوں۔ سلمان اکثر اس پُل پر آ کر بیٹھ جاتا تھا۔ وہ اُن لوگوں میں سے تھا، جو ہر معاملے میں انتہا پسند ہوتے ہیں۔

یعنی محبّت کرے، تو خُود کو بھلا بیٹھے، نفرت کرے، تو دنیا جلا دے، محنت کرے، تو راتیں کھا جائے، اور تھک جائے تو مہینوں بستر سے نہ اُٹھے۔ اُس کی ماں کہا کرتی تھی۔ ’’بیٹا! زندگی، سالن میں نمک کی طرح ہوتی ہے۔ کم ہو تو بے مزہ، زیادہ ہو تو ناقابلِ برداشت۔ اور بیٹا! یاد رکھو، کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا، نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔‘‘ مگر سلمان نے کبھی درمیانی راستہ سیکھا ہی نہیں تھا۔

کالج کے زمانے میں وہ پڑھائی میں ایسا ڈوبا کہ دوست چُھوٹ گئے۔ پھر اُس کی زندگی میں مائرہ آئی۔ اُس سے محبّت بھی ایسے کی، جیسے عبادت ہو۔ مائرہ ہنستی، تو سلمان کو لگتا، دنیا روشن ہوگئی، اور ایک دن جب وہ چلی گئی تو واقعی اُس کی دنیا بجھ گئی۔ اُس کے بعد سلمان نے خُود کو کام میں دفن کردیا۔ دفتر، فائلز، پراجیکٹس، رات بھر جاگنا۔ لوگ کہتے تھے۔ ’’یہ آدمی بہت کام یاب ہوگا۔‘‘ اور وہ ہوا بھی۔ بڑی گاڑی، بڑا فلیٹ، بینک بیلنس… سب کچھ ملا، سوائے سُکون کے۔

ایک رات وہ اُسی پُل پر بیٹھا تھا، جب اُس نے دیکھا، ایک بوڑھا آدمی آہستہ آہستہ پُل عبور کررہا ہے۔ ہاتھ میں لالٹین تھی۔ قدم بہت سنبھال کر رکھتا، جیسے ہرقدم سوچ سمجھ کر اُٹھا رہا ہو۔ جونہی وہ قریب آکر بیٹھا۔ سلمان نے بےاختیار پوچھا۔ ’’بابا! ڈر نہیں لگتا؟ یہ پُل بہت تنگ ہے۔‘‘ بوڑھا مُسکرایا۔’’بیٹا! پُل تنگ نہیں ہوتے… انسان اپنے بوجھ سے گرجاتا ہے۔‘‘ سلمان خاموش ہوگیا۔ بوڑھا اُس کے پاس آکربیٹھ گیا۔ ’’پریشان لگتے ہو…؟؟‘‘

سلمان کو جھرجھری آگئی۔ امّاں ہمیشہ اُسے کہا کرتی تھیں۔ ’’ایسی سنسان جگہوں پر اکیلے نہ بیٹھا کرو۔ بہت سے لوگ پریشان لوگوں کےغم دُور کرنےکے لیے اُنہیں نشے پر لگا کر غلط دھندا کرتے ہیں۔‘‘ ’’ڈرو نہیں بیٹا! مجھے بتاؤ، شاید میں تمھاری کچھ مدد کر سکوں۔‘‘ بوڑھے بابا نے اپنا ہاتھ سلمان کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے محبّت بھرے لہجے میں کہا۔ اور ذرا سی ہم دردی پا کر سلمان نے تو جیسے اپنے دل کا حال کھول کر اُس کےسامنے رکھ دیا۔ ’’زندگی خراب کردی مَیں نے۔

کبھی بہت زیادہ چاہا، کبھی سب چھوڑ دیا۔ کچھ سمجھ نہیں آیا۔‘‘ بوڑھے نے لالٹین زمین پر رکھی۔ ’’زندگی میں دو گڑھے ہوتے ہیں بیٹا! ایک افراط، ایک تفریط۔ لوگ سمجھتے ہیں، تباہی صرف بُرائی میں ہے۔ نہیں بیٹا… حد سے بڑھی ہوئی اچھائی بھی انسان کو کھاجاتی ہے۔‘‘ سلمان نے غور سے اُس پُل کو دیکھا۔

واقعی، اصل خطرہ پُل کی تنگی نہیں تھی۔ خطرہ یہ تھا کہ ذرا ساجُھکاؤ آدمی کوایک طرف گرادیتا۔’’تو پھر بچا کیسے جائے؟‘‘ اُس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔ بوڑھا مُسکرایا۔ ’’توازن سے۔ محبّت کرو، مگرخُود کو مت کھوؤ۔ محنت کرو، مگر سانس لینا نہ بھولو۔ عبادت کرو، مگر دوسروں کو حقیر نہ سمجھو۔ اور کوئی غم، مصیبت، پریشانی آئے تو ہمّت سے مقابلہ کرو، ناحق بوکھلاؤ، گھبراؤ نہیں۔‘‘

ہوا میں ہلکی ٹھنڈ گُھل گئی۔ سلمان کی آنکھیں بھر آئیں۔ ’’مَیں نے بہت کچھ کھودیا ہے بابا!‘‘ ’’جوانسان اپنی غلطی سمجھ لے، اُسے مان لے، وہ ابھی گِرا نہیں بیٹا…وہ صرف لڑکھڑایا ہے۔ ابھی تمھارے پاس سنبھلنے کے مواقع ہیں، زندگی پڑی ہے۔‘‘ بابا نے ملائمت سے سمجھایا۔ سلمان نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید زندگی واقعی پُلِ صراط ہی ہے۔ نہ بہت تیز دوڑ کر پار کی جا سکتی ہے، نہ وہیں بیٹھ کر۔ بس توازن کے ساتھ چلنا پڑتا ہے اور شاید نجات بھی اِسی میں ہے۔

سلمان نے دل ہی دل میں خیال کیا کہ ’’یقیناً یہ بوڑھا آدمی میرے لیے رحمت کا فرشتہ بن کرآیا ہے۔‘‘ ’’بابا! آپ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘ سلمان نے پوچھا۔ ’’بیٹا! مَیں ایک معمولی موچی ہوں۔ اِس نالے کے اُس پار میری چھوٹی سی دکان ہے، جہاں مَیں سارا دن جوتے سیتا ہوں۔‘‘ ’’تو کیا آپ ساری عُمر جوتے ہی سیتے رہے؟

آپ کی کوئی اولاد… میرا مطلب ہے، کوئی بیٹا؟ کوئی تو ہوگا ناں؟‘‘ ’’سب ہیں…‘‘ بوڑھے کی آنکھوں میں اَن دیکھی تھکن کا سایہ سا لہرایا۔ ’’لوگ کہتے ہیں کہ پُلِ صراط سے گزر، مرنے کے بعد ہوگا، لیکن مَیں سمجھتا ہوں، ہر انسان اِس زندگی میں بھی کئی بار ’’پُلِ صراط‘‘ سے گزرتا ہے۔ ”زندگی میں؟‘‘ اُس نےحیرانی سے بوڑھے کی آنکھوں میں دیکھا۔

’’ہاں، زندگی میں۔‘‘ بابا نے اپنی چپل پاؤں سے اُتارتے ہوئے کہا۔ ’’اس جوتی کو دیکھ رہے ہو؟ دھاگا ذرا سا ٹیڑھا لگ جائے تو پورا جوتا کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ انسان جب انصاف اور خواہش کے بیچ چلتا ہے، تو دراصل وہی ’’پُلِ صراط‘‘ ہے۔ مَیں بھی ایسے ہی ’’پُلِ صراط‘‘ سے گزر رہا ہوں۔ کیوں کہ سچائی کا پُل بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔

اُس پر جھوٹ کے جوتے پہن کر نہیں چلا جا سکتا۔‘‘ ’’مَیں سمجھا نہیں۔‘‘ سلمان بدستور گومگو کی سی کیفیت میں تھا۔ ’’تم نہیں سمجھ سکتے بیٹا! میرا بیٹا انکم ٹیکس آفیسر ہے… مگر اُس کے معاملے میں مجھ سے بھول ہوگئی۔ اُس کے جوتے کا دھاگا جانے کیسے ٹیڑھا لگ گیا؟‘‘ بوڑھے کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

’’اِسی لیے آپ تمام عُمر جوتے ہی سیتے رہے؟‘‘ سلمان نے کسی قدر عقیدت سے پوچھا۔ ’’نہیں بیٹا!‘‘ بوڑھے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’مَیں پھر لوگوں کے قدم بچاتا رہا… تاکہ وہ اپنے اپنے ’’پُلِ صراط‘‘ سے گر نہ جائیں۔‘‘ اور سلمان کو جیسےعُمر بھر کے لیے اعتدال وتوازن کی راہ چلنے کا درس مل گیا۔

سنڈے میگزین سے مزید