تہران/ واشنگٹن(اے ایف پی /نیوزڈیسک ) شرائط پر اختلافات کے باوجودامریکا اورایران امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے ‘ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ معاہدہ پہلے کبھی اتنا قریب نہیں تھا۔میڈیاقیاس آرائیوں سے گریز کرے ‘ بعد ازاں ٹرمپ نے عراقچی کے اس پیغام کا اسکرین شاٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیاجبکہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ صرف معاہدے پر دستخط کرنے پر تہران کوفوری فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے‘ اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو معاشی فوائد ان تک اور پورے خطے تک پہنچیں گے۔ عراقچی نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ممکنہ ڈیل کو سبوتاژکرنے کی کوشش کررہاہے‘معاہدے کے مسودے میں ناکہ بندی کا خاتمہ اورہرمز سے متعلق انتظامات شامل ہیں‘ اب ہرمز سے گزرنے کی فیس ہوگی ‘ جوہری مسئلے اور پابندیوں کے خاتمے کا فیصلہ حتمی معاہدے میں ہوگا‘ افزودہ یورینیم کوملک میں ہی پتلا (ڈائیلوٹ)کرنا ہوگا‘معاہدے کے مسودے پر دستخط آن لائن ہوں گے‘آنے والے دنوں میں ایسا ہونا ممکن ہے‘مجھے بہت امید ہےجبکہ محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ معاہدے کے وعدوں کو لازمی پوراکرنا ہوگا‘اس میں کوئی اگرمگر یا بہانہ نہیں چلے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایرانی فیصلہ ساز ادارے مفاہمت کی یادداشت پر غور کیلئے اجلاس کر رہے ہیں‘ بیشتر معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے اور ہم داخلی مشاورت کے آخری مرحلے میں ہیں‘ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹزکا کہنا ہے کہ اسرائیل لبنان‘ شام اور غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا جبکہ نتن یاہونے کہاہے کہ جب تک میں اسرائیل کا وزیر اعظم ہوںایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ صدر ٹرمپ اور میں اس مسئلے پر مکمل طور پر متفق ہیں‘ ادھر سوئٹزر لینڈ نےامن معاہدے پر ممکنہ دستخط کی تقریب کی میزبانی کرنے کی پیشکش کی ہے‘ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایاکہ تہران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کا80سے 85فیصدیقین ہےاور اس میں لبنان واسرائیل بھی شامل ہیں ۔ جمعرات کو ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بیان کے بعد ایرانی میڈیا نے مجوزہ معاہدے کا ایک مبینہ خاکہ شائع کیا جو مذاکرات کی میز پر زیر بحث تھا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران یورینیم افزودہ کرنے کے حق اور آبنائے ہرمزسے گزرنے والی بحری ٹریفک کے کنٹرول پر بضد رہے گا۔تاہم یہ مؤقف وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کے بیان سے بالکل متصادم تھا جنہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ختم ‘ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف اورہرمزکو دوبارہ کھولنے پر راضی ہو گیا ہےجبکہ تہران کو اس وقت تک کوئی بھی منجمد فنڈز واپس نہیں ملیں گے جب تک وہ ان وعدوں کو پورا نہیں کر لیتا۔ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق امریکا اور ایران ابھی کامیابی کی آخری لکیر (فنش لائن )تک تو نہیں پہنچے لیکن معاہدے کے بہت قریب ہیں‘واشنگٹن کو آنے والے دنوں میں ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کی توقع ہے۔ایک مغربی، ایک ایرانی اور ایک خلیجی ذریعے نے بتایا کہ ایک اہم مسئلہ جسے ابھی حل کیا جانا باقی ہے وہ لبنان میں دشمنی کے خاتمے سے متعلق نکتہ ہے۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی مہم کا خاتمہ کرے۔ایران کی طرف سے آبنائے کھولنے کے بدلے امریکا فوری طور پر ایران کو اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے فراہم کرنا شروع کر دے گا اور اس کے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو ختم کر دے گا۔ایک مغربی ذریعے نے بتایا کہ اگراتفاق ہو جاتا ہے تو اتوار کو ہی نائب صدر وینس اور ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف اس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر سکتے ہیں اور جنیوا کو فی الحال اس کے لیے سب سے ممکنہ مقام سمجھا جا رہا ہے۔نتن یاہونے کہا ہے کہ ان کا ملک اس مفاہمت کی یادداشت کا حصہ نہیں بنے گا۔ جمعہ کوٹرمپ نے امن مسودے کے ایرانی ورژن کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں امریکی صدرنے کہاکہ ایران نے فیک نیوز کو تفصیلات لیک کی ہیں ان کا ان شرائط سے کوئی تعلق نہیں ہے جن پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا۔ انہوں نے جو کچھ کہا ہےاس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ لین دین کے معاملے میں انتہائی بے اصول لوگ ہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لیں اور وہ بھی جلدی!۔ بعدازاںعباس عراقچی نے اس تنازع کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پہلے کبھی اتنی قریب نہیں تھی‘ معاہدہ کو حتمی شکل دیے جانے تک میڈیا کو اس کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔بعد میں ٹرمپ نے عراقچی کے اس پیغام کا اسکرین شاٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔امریکی اتحادی اسرائیل کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ کسی بھی معاہدے کے نتیجے میں ایران کو اس کے افزودہ جوہری مواد سے محروم کر دیا جائے گا لیکن ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مذاکرات کی میز پر شامل ہی نہیں تھا۔ارنا کے مطابق ابتدائی معاہدے پر دستخط کے بعد ایران اور امریکا مزید60روزتک بات چیت کریں گے۔