کراچی(طاہر عزیز۔۔۔اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی کی ہدایت کے باوجود کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ اور دیگر شعبے مختلف ترقیاتی منصوبوں اوراسکیموں کے لئے حکومت سندہ سے ملنے والے اربوںروپے کے فنڈ رواں مالی سال میں استعمال نہ کر سکے ان اسکیموں میں بعض صرف ایک سال کے لئے تھیں اور کچھ منصوبے دو سال پر محیط ہیں اس طرح ایک خطیر فنڈ ضائع ہونے اور آئندہ مالی سال میں کے ایم سی کو نہ ملنے کا امکان ہے وفاقی حکومت کی جانب سےڈیولپمنٹ فنڈ میں کٹو تی کے باعث پہلے ہی صوبوں کو کم رقوم ملیں گی اگرپلاننگ اینڈڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ اور محکممہ بلدیات استعمال سے رہ جانے والے کے ایم سی فنڈ کو دوبارہ مالی سال 2026-27کےبجٹ میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کافی دباو ہو گا باخبر ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اینول ڈیولپمنٹ پروگرام (ڈسٹرکٹ اے ڈی پی)میں کے ایم سی کو رواں سال جاری اسکیموں کے لئے 8400ملین روپے اور نئی کے لئے 2400ملین روپے مختص تھےجاری اسکیموں میں5ارب روپے ریلیز کئے گئے اور 3 ارب40کروڑروپے استعمال نہ ہو سکے جبکہ نئی اسکیموں کی مد میں 2ارب 40کروڑ کے57ٹینڈر کے ورک آرڈر تو جاری ہوئے لیکن تاخیر کے باعث آن گراونڈ کام شروع نہ ہو سکاذرائع کا کہنا ہے جلد بازی میں ان نئے کاموں کے ٹینڈر ابھی فائنل نہیں ہو سکے ہیں پروونشل اینول ڈیولپمنٹ پروگرام (پروونشل اے ڈی پی) کی مد میں بلاک ایلوکیشن کی 10ارب روپے کی گیارہ اسکیمیں تھیں بلدیہ عطمیٰ کراچی یہاں سے5ارب60 کروڑ روپے استعمال کر سکی 4 ارب40 کروڑ ضائع ہوئے یہ منصوبے فل فنڈنگ اور انہیں ایک سال میں مکمل ہونا تھا ذرائع کا کہنا ہے اس تساہل پر محکمہ فنانس اور پی اینڈ ڈی سندھ کافی ناراض ہیں حکومت سندھ نے 5ارب روپےکی ون ٹائم گرانٹ ان ایڈ بھی دی اس فنڈ سے17 ترقیاتی پیکیج تیار کئے گئےٹینڈر میں بہت تاخیر ہوئی ڈھائی ارب روپے مل سکے اور ڈھائی ارب روپے ضائع ہو گئےاسی طرح ٹاونز کی 13 ارب روپے کی اسکیمیں جو آخری سہ ماہی میں کے ایم سی کو دی گئیں لیکن یہ بھی ٹینڈر کے مراحل سے آگے نہ بڑھ سکیں ۔