• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران سے معاہدہ آج، ہرمز بھی کھل جائے گی، ٹرمپ

کراچی، اسلام آباد (نیوز ڈیسک،رانا غلام قادر) صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ طے پا جائیگا، آبنائے ہرمز کو فوری طور پرسب کیلئے کھول دیا جائیگا، حالات پرامن ہونگے تو ہم جا کر جوہری مواد بھی کھود کر نکالیں گے، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے کے منتظر ہیں،جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ آج دستخط ہو رہے ہیں نہ انکی مذاکراتی ٹیم جینوا یا کہیں اور جا رہی ہے، پاسداران انقلاب نے بھی امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ آج اپنی سالگرہ کے موقع پر دستخط کروانا چاہتے ہیں، غیر معمولی اصرار کا مقصد ذاتی شہرت کی خواہش ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ میں فاتح ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اگلے 24 گھنٹے میں معاہدے کو حتمی شکل دیئے جانےکی توقع ہے، الیکٹرانک دستخط کی تیاریاں جاری،جتنے قریب اب آگئے ہیں پہلے کبھی نہیں تھے۔ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 3فیصد کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں آج ایران سے معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا۔ انہو ںنے باراک حسین اوباما کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ (جے سی پی او اے) ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک آسان اور ہموار راستہ تھا۔ اگر وہ معاہدہ برقرار رہتا تو ایران چھ سال پہلے ہی جوہری ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا اور ممکن ہے انہیں استعمال بھی کر چکا ہوتا۔ ایران کے ساتھ میرا معاہدہ اسکے بالکل برعکس ہے، یہ جوہری ہتھیار کے راستے میں ایک مضبوط دیوار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اب نہ تو جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور نہ ہی اسے خرید، تیار یا کسی اور ذریعے سے حاصل کر سکے گا۔ معاہدے پر آج اتوا کو دستخط ہونے والے ہیں اور دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام ممالک کیلئے کھول دی جائے گی۔ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات سابق امریکی حکومتوں کے مقابلے میں بہتر اور مختلف ہیں۔ اوباما انتظامیہ کی طرح ایران کو سیکڑوں ارب ڈالر نہیں دیے جائیں گے اور نہ ہی 1.7 ارب ڈالر نقد رقم جیسی کوئی ادائیگی ہوگی۔ مناسب وقت آنے پر، جب حالات مکمل طور پر پُرسکون ہوں گے، ہم اپنے بی-2 بمبار طیاروں اور ان کے ماہر پائلٹوں کی بدولت گہرے پہاڑوں میں دفن جوہری مواد کو نکالیں گے اور اسے تلف کر دیں گے، خواہ یہ عمل ایران میں ہو یا امریکہ میں۔ ہم ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے کے منتظر ہیں۔ امید ہے یہ عمل تیزی، آسانی اور خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید